گرین کارڈ پر امریکہ سے باہر جاسکتے، واپسی کی ضمانت نہیں
گرین کارڈ پر امریکہ سے باہر جا سکتے ہیں، واپسی کی ضمانت نہیں۔ امریکا میں مستقل رہائش رکھنے والے افراد یعنی گرین کارڈ ہولڈرز کے لیے نئی سفری پابندیاں نافذ کر دی گئی ہیں۔ امریکی ادارۂ صحت “سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن” (سی ڈی سی) نے اعلان کیا ہے کہ جو گرین کارڈ ہولڈرز حالیہ دنوں میں ایسے ممالک گئے ہوں جہاں ایبولا وائرس پھیل رہا ہے، انہیں بھی اب امریکہ میں دوبارہ داخلے سے روکا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ان پہلے سے موجود پابندیوں میں توسیع ہے جن کے تحت غیر ملکی شہریوں پر ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو، ساؤتھ سوڈان اور یوگنڈا جیسے ممالک سے آنے پر قدغنیں عائد تھیں۔ اب پہلی مرتبہ قانونی مستقل رہائشیوں یعنی گرین کارڈ رکھنے والوں کو بھی ان اختیارات کے دائرے میں شامل کیا جا رہا ہے۔ سی ڈی سی نے کہا ہے کہ یہ اقدام “عوامی صحت کے مفاد” میں کیا جا رہا ہے تاکہ ایبولا جیسے مہلک وائرس کے امریکہ میں پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امیگریشن اور عوامی صحت کے درمیان نئی قانونی بحث کو جنم دے سکتا ہے کیونکہ گرین کارڈ ہولڈرز کو عام طور پر امریکہ میں واپسی کا قانونی حق حاصل ہوتا ہے۔ ایبولا دنیا کے خطرناک ترین وائرسز میں شمار ہوتا ہے جس کی شرحِ اموات بعض وباؤں میں 50 فیصد سے بھی زیادہ دیکھی گئی ہے۔ امریکہ ماضی میں بھی وبائی امراض کے دوران سخت سفری اقدامات نافذ کرتا رہا ہے، تاہم اس مرتبہ قانونی مستقل رہائشیوں تک پابندیوں کا دائرہ بڑھانا ایک غیر معمولی قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ یاد رہے امریکی صدر نے کل ہی امریکہ میں بیٹھ کر گرین کارڈ اپلائی کرنے کے لیے دوسرے ممالک جانے کی پابندی لگا دی ہے، جس سے بیک وقت کئی ملین افراد، جو امریکہ میں نہ صرف خاندان کے ساتھ رہتے ہیں بلکہ قانونی طریقے سے ملازمت بھی کرتے ہیں، کے ملک سے نکالے جانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی صدر کے اس اقدام کو عدلیہ میں چیلنج کیا جائے گا اور امید ہے کہ عدالتیں آئین کے مطابق اس فیصلے کا جائزہ لیں گی۔


