Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہگرین کارڈ سسٹم میں بڑا جھٹکا: ٹرمپ انتظامیہ کا نیا حکم، زیادہ...

ٹرینڈنگ

گرین کارڈ سسٹم میں بڑا جھٹکا: ٹرمپ انتظامیہ کا نیا حکم، زیادہ تر درخواست گزاروں کو امریکا چھوڑ کر بیرونِ ملک سے اپلائی کرنا ہوگا

گرین کارڈ سسٹم میں بڑا جھٹکا: ٹرمپ انتظامیہ کا نیا حکم، زیادہ تر درخواست گزاروں کو امریکا چھوڑ کر بیرونِ ملک سے اپلائی کرنا ہوگا

واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امیگریشن نظام میں ایک بڑا اور متنازعہ قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اب زیادہ تر گرین کارڈ (مستقل رہائش) کے درخواست دہندگان کو امریکا کے اندر سے اپلائی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، بلکہ انہیں اپنے آبائی ممالک یا بیرونِ ملک امریکی قونصل خانوں سے درخواست دینا ہوگی۔
نئی پالیسی کے مطابق وہ غیر ملکی شہری جو امریکا میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں، یا وہ پیشہ ور افراد جو امریکی کمپنیوں کی اسپانسرشپ پر کام کر رہے ہیں، ان سب کو اس تبدیلی سے براہِ راست اثر پڑے گا۔ خاص طور پر وہ افراد جو کسی امریکی شہری سے شادی یا بچے کی اسپانسرشپ کے ذریعے قانونی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اب انہیں بھی امریکا چھوڑ کر بیرونِ ملک جا کر درخواست دینی ہوگی۔
حکام کے مطابق صرف “خصوصی حالات” میں ہی کسی کو امریکا کے اندر سے گرین کارڈ کے لیے اپلائی کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے بغیر درخواست گزار کو ملک سے باہر جا کر پروسیس مکمل کرنا ہوگا، جہاں انہیں نہ صرف اپنے موجودہ قانونی اسٹیٹس سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے بلکہ دوبارہ امریکا میں داخلے پر طویل پابندیوں (3 سال سے لے کر عمر بھر تک) کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
یو ایس سی آئی ایس کے ترجمان کے مطابق یہ اقدام امیگریشن نظام کو “قانون کے مطابق” بنانے کے لیے ہے اور اس کا مقصد ایسے “لوپ ہولز” کو بند کرنا ہے جن کے ذریعے لوگ غیر قانونی طور پر ملک میں رہ کر بعد میں قانونی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی لاکھوں تارکینِ وطن کے لیے شدید مشکلات پیدا کرے گی، خاص طور پر ان کے لیے جو پہلے ہی امریکا میں رہائش اور روزگار کے ساتھ اپنی زندگی قائم کر چکے ہیں۔
یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی میں ایک اور سخت موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا تعلق اس وسیع تر حکمتِ عملی سے بھی جوڑا جا رہا ہے جس میں پیدائشی شہریت جیسے قوانین پر بھی نظرِ ثانی کی کوششیں شامل ہیں۔

مزید پڑھیں