Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومکینیڈاکینیڈا کے صوبے البرٹا میں علیحدگی پسند تحریک ایک بار پھر شدت...

ٹرینڈنگ

کینیڈا کے صوبے البرٹا میں علیحدگی پسند تحریک ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے

کینیڈا کے صوبے البرٹا میں علیحدگی پسند تحریک ایک بار پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، اور صوبے کی وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کو اب اپنی ہی سیاسی جماعت کے اندر سے دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔ تازہ رپورٹ کے مطابق علیحدگی پسند گروپس نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے صوبے کی آزادی سے متعلق ریفرنڈم سوال کو سپورٹ نہ کیا تو انہیں اپنی سیاسی قیادت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ یہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب “البرٹا پراسپیریٹی پراجیکٹ” نامی تنظیم، جس نے دعویٰ کیا کہ اس نے صوبے کی آزادی کے حق میں تین لاکھ سے زائد دستخط جمع کیے ہیں، عدالت کی جانب سے قانونی رکاوٹ کا شکار ہو گئی۔ عدالت نے قرار دیا کہ فرسٹ نیشنز کمیونٹیز سے مناسب مشاورت نہ ہونے کے باعث یہ عمل آئینی مسائل پیدا کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق علیحدگی پسند رہنما اور وکیل جیفری راتھ نے کھلے الفاظ میں کہا کہ اگر ڈینیئل اسمتھ نے “فاریور کینیڈین” نامی وفاق کے حامی ریفرنڈم سوال کو آگے بڑھایا تو اس کے “سیاسی نتائج” ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ علیحدگی پسند ووٹرز نے اس امید پر اسمتھ کی حمایت کی تھی کہ وہ البرٹا کی خودمختاری کے مطالبے کو آگے بڑھائیں گی۔ سیاسی ماہرین کے مطابق ڈینیئل اسمتھ اس وقت شدید دباؤ میں ہیں۔ ایک طرف صوبے کے وہ لوگ ہیں جو کینیڈا کے ساتھ رہنے کے حامی ہیں، جبکہ دوسری جانب ان کی جماعت کے اندر موجود سخت گیر علیحدگی پسند دھڑا ہے، جو حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے۔ یونیورسٹی آف البرٹا کے سیاسی ماہرین کے مطابق یو سی پی جماعت کے اندر علیحدگی پسند سوچ پہلے سے زیادہ مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مارک کارنی کی وفاقی حکومت البرٹا کے ساتھ نئے آئل پائپ لائن منصوبوں اور توانائی معاہدوں پر کام کر رہی ہے تاکہ صوبے میں بڑھتی بے چینی کو کم کیا جا سکے۔ ڈینیئل اسمتھ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر وفاق البرٹا کے توانائی منصوبوں اور معیشت کے حوالے سے زیادہ “رعایتیں” دے تو علیحدگی پسند تحریک کی شدت کم ہو سکتی ہے۔ ادھر اس تحریک کے گرد مزید تنازع اس وقت پیدا ہوا جب بعض علیحدگی پسند عناصر کی امریکی قدامت پسند حلقوں اور ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ سے جڑے افراد کے ساتھ ملاقاتوں کی خبریں سامنے آئیں۔ اس پر ڈیوڈ ایبی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے “ملک سے غداری کے مترادف” قرار دیا تھا۔ سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی اس معاملے پر شدید بحث جاری ہے۔ کئی کینیڈین شہریوں کا کہنا ہے کہ البرٹا کی علیحدگی نہ صرف کینیڈا کی سیاست بلکہ معیشت اور قومی اتحاد کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ ریڈٹ اور دیگر پلیٹ فارمز پر بعض صارفین نے کہا کہ علیحدگی پسند گروپس اب خود ڈینیئل اسمتھ پر بھی اعتماد کھو رہے ہیں کیونکہ وہ ان کے مطالبات پوری طرح ماننے کو تیار نہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ البرٹا میں علیحدگی کی حمایت کرنے والے افراد کی تعداد بڑھی ہے، لیکن اب بھی صوبے کی اکثریت کینیڈا سے الگ ہونے کے حق میں نہیں۔ تاہم بڑھتی سیاسی کشیدگی، معاشی بے چینی، توانائی پالیسیوں پر وفاق اور صوبے کے اختلافات، اور عوامی غصہ مستقبل میں کینیڈا کی سیاست کو مزید غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں