کینیڈا کی معیشت نے گزشتہ چند دہائیوں میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ 1970 کی دہائی میں جب عالمی سطح
کینیڈا کی معیشت نے گزشتہ چند دہائیوں میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ 1970 کی دہائی میں جب عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا، تو کینیڈا بھی شدید مہنگائی کا شکار ہوا تھا۔ اسی طرح 1990 کی دہائی میں بھی اقتصادی بحران نے مقامی لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کیا تھا۔ آج یعنی 2025-2026 میں بھی حالات زیادہ مختلف نہیں ہیں۔ مہنگائی کی شرح دو دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، خاص طور پر کرائے، کھانے پینے کی اشیاء اور روزمرہ کی ضروریات میں۔ مقامی لوگ، جو پہلے سے یہاں آباد ہیں، انہیں ملازمتیں کھونے، قرضوں کے دباؤ اور زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ نئے امیگرینٹس اور بین الاقوامی طلبہ کی بڑھتی ہوئی تعداد نے مسکن کے مسائل کو بھی سنگین کر دیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی بچت کھو رہے ہیں، اور چھوٹے کاروبار بھی دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں۔ یہ صرف اقتصادی مسائل نہیں، بلکہ ایک ساختی بحران ہے جس میں حکومت کو طویل المدتی پالیسیوں پر غور کرنا ہوگا۔ اگرچہ حکومتی اقدامات کچھ امید دلاتے ہیں، لیکن عوام کی مشکلات مسلسل بڑھ رہی ہیں، اور انہیں اپنے حقوق اور تحفظ کے لیے مزید آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔


