کیلی فورنیا کے پرائمری انتخابات ڈیموکریٹس کے لیے خطرہ اور جماعت میں اندرونی بغاوت کے آثار
کیلی فورنیا کے پرائمری انتخابات ڈیموکریٹس کے لیے خطرہ اور جماعت میں اندرونی بغاوت کے آثار
امریکا کی ڈیموکریٹ جماعت کو کیلیفورنیا میں ہونے والے ابتدائی انتخابات کے موقع پر اپنی ہی صفوں سے ایک بڑے سیاسی امتحان کا سامنا ہے، جہاں طویل عرصے سے ایوانِ نمائندگان میں موجود بزرگ اراکین کو نوجوان اور جارح مزاج چیلنجرز کا سامنا ہے۔
پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے رجحانات کے مطابق کئی حلقوں میں ووٹرز کی ایک بڑی تعداد موجود قیادت سے عدم اطمینان کا اظہار کر رہی ہے، جسے مبصرین ’’پرانے چہروں کے خلاف سیاسی لہر‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ اس صورتحال میں مختلف حلقوں میں سخت مقابلے متوقع ہیں، خصوصاً اُن حلقوں میں جہاں موجودہ نمائندے دہائیوں سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
کیلیفورنیا کے انتخابی نظام کے تحت تمام امیدوار ایک ہی مقابلے میں حصہ لیتے ہیں اور سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والے دو امیدوار نومبر کے حتمی مرحلے میں پہنچتے ہیں، جس سے اکثر اوقات ایک ہی جماعت کے دو امیدوار آمنے سامنے آ جاتے ہیں۔ اس بار بھی متعدد حلقوں میں یہی صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے، جس نے سیاسی تجزیہ کاروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق اس انتخابی مرحلے کو صرف مقامی سیاست نہیں بلکہ آئندہ قومی انتخابات کے رجحان کے لیے بھی ایک اہم اشارہ سمجھا جا رہا ہے، جہاں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ آیا ووٹرز تجربہ کار قیادت کو برقرار رکھتے ہیں یا نئی نسل کو موقع دیتے ہیں


