کیا ایران۔امریکہ معاہدہ واقعی مذاکرات ہے یا عوام کے سامنے کھیلا جانے والا ایک سیاسی ڈرامہ؟
دنیا کی نظریں ان دنوں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات پر جمی ہوئی ہیں، مگر ایک دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ ہر چند گھنٹوں بعد معاہدے کی خبریں بدل جاتی ہیں۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ معاہدہ تقریباً طے پا گیا، پھر خبر آتی ہے کہ اختلافات پیدا ہوگئے، اور کچھ ہی دیر بعد دوبارہ پیش رفت کی اطلاعات سامنے آ جاتی ہیں سیاسی مبصرین کے ایک حلقے کا خیال ہے کہ اس اتار چڑھاؤ کی ایک وجہ صرف مذاکراتی پیچیدگیاں نہیں بلکہ دونوں حکومتوں کی اندرونی سیاسی ضرورتیں بھی ہیں۔ ایران کو اپنے عوام کو یہ دکھانا ہے کہ اس نے دباؤ کے باوجود قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، جبکہ امریکی قیادت کو یہ تاثر دینا ضروری ہے کہ اس نے سخت مؤقف اختیار کرکے بہترین ممکنہ نتائج حاصل کیے ہیں امریکہ میں آنے والے سیاسی معرکے، ڈیموکریٹس اور معاشی دباؤ، میڈیا کی مسلسل تنقید اور عالمی سطح پر امریکی طاقت کے بارے میں اٹھنے والے سوالات بھی اس پس منظر کا حصہ سمجھے جا رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں کوئی بھی امریکی صدر یہ نہیں چاہے گا کہ اسے کمزور مذاکرات کار کے طور پر پیش کیا جائے۔ اسی لیے بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق معاہدے کے اعلان سے پہلے سخت بیانات، بار بار تعطل اور کشیدگی کا ماحول پیدا کرنا ایک سیاسی حکمتِ عملی بھی ہو سکتی ہے، تاکہ حتمی معاہدہ بعد میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کیا جا سکے دوسری طرف ایران بھی یہی کوشش کرتا دکھائی دیتا ہے کہ اس کے عوام کو محسوس ہو کہ ملک نے دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی شرائط منوائیں۔ یوں دونوں فریق بظاہر ایک دوسرے سے نہیں بلکہ اپنے اپنے عوام، میڈیا اور سیاسی مخالفین سے بھی مذاکرات کر رہے ہیں اگر معاہدہ آخرکار ہو جاتا ہے تو کیا یہ صرف سفارتی کامیابی ہوگی، یا پھر کئی ہفتوں اور مہینوں سے جاری سیاسی بیانیے کا اختتامی منظر؟ بین الاقوامی سیاست میں اکثر جنگیں میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ عوام کے ذہنوں میں لڑی جاتی ہیں۔ طاقتور ریاستیں صرف مخالف ملک کو قائل نہیں کرتیں، وہ اپنے شہریوں کو بھی یہ یقین دلانا چاہتی ہیں کہ جو کچھ حاصل ہوا، اس سے بہتر ممکن ہی نہیں تھا۔ شاید اسی لیے بعض معاہدے دستخط ہونے سے پہلے کئی بار ٹوٹتے اور بنتے نظر آتے ہیں۔ حقیقت میں کبھی کبھی مذاکرات میز پر کم اور سیاسی اسٹیج پر زیادہ ہو رہے ہوتے ہیں، اور جب پردہ گرتا ہے تو دنیا اسے تاریخی کامیابی سمجھتی ہے، حالانکہ اس کی بنیاد بہت پہلے خاموش کمروں میں رکھی جا چکی ہوتی ہے


