کون بنے گا نیا وزیر اعلیٰ پنجاب؟مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی
کون بنے گا نیا وزیر اعلیٰ پنجاب؟مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا حکومتی اتحاد مرکز اور صوبوں میں بیڈ گورنس اور کرپشن کی شکایات پر تبدیلی کی افواہوں کی زد میں ہے اور تمام جماعتوں پر مشتمل قومی حکومت کی بازگشت پنجاب میں مریم نواز کی حکومت جو عوام کو ریلیف اور صوبے کی ترقی و خوشحالی کا ڈھول پیٹ رہی تھی اور صفائی ستھرائی کے نام پر غریب دکانداروں اور ریڑھی بانوں کے چولہے بجھا رہی تھی اس کی مقبولیت بھی زمین بوس ہونے کو ہے زمیندار کاشتکار پنجاب حکومت کی کسان دشمن پالیسیوں پر نالاں تھے اور اب شہری بھی مہنگائی اور بے روزگاری سے بلبلا اٹھے ہیں کروڑوں اربوں کے اشتہارات کے ذریعے عوام کو پنجاب کی خوشحالی اور ترقی دکھائی جا رہی ہے دوسری طرف سرکاری فنڈز سے غریبوں کو پیٹ بھرنے کے لیے چند ہزار روپے مالی امداد اور ریلیف کے نام پر دیے جا رہے ہیں جو صوبے کے کروڑوں غریبوں کے لیے قطعا ناکافی ہیں حکومت پنجاب کے لینڈ مارک ستھرا پنجاب میں بھی اربوں کی کرپشن کی کہانیاں منظر عام پر آ رہی ہیں ان حالات میں مریم نواز کا کارکردگی کی بنیاد پر وزیر اعظم بننے کا خواب پورا ہوتا نظر نہیں آتا البتہ مستقبل میں صوبے کی وزارت اعلیٰ میں تبدیلی ممکن نظر آ رہی ہے جس کے لیے نواز فیملی نے ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار کے صاحبزادے اپنے داماد علی ڈار کو جو دوبئی میں ریئل اسٹیٹ اور فنانس کے کاروبار سے منسلک تھے واپس بلا کر پنجاب حکومت میں مشیر مقرر کر دیا ہے اور وہ صوبائی سطح پر کافی متحرک ہیں تاہم اگر وفاق میں مقتدر حلقوں کی طرف سے کوئی تبدیلی دیکھنے کو آئی تو پنجاب میں بھی ان کی منشا کے مطابق کوئی نئی شخصیت وزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز ہو سکتی ہے


