Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںچیک پوسٹوں کی زنجیر ٹوٹنے لگی؟ امریکہ–میکسیکو سرحد پر ایسا نظام جس...

ٹرینڈنگ

چیک پوسٹوں کی زنجیر ٹوٹنے لگی؟ امریکہ–میکسیکو سرحد پر ایسا نظام جس نے سفر کا انداز ہی بدل دیا

دنیا بھر میں روزانہ لاکھوں افراد ایک ملک سے دوسرے ملک کا سفر کرتے ہیں، مگر بین الاقوامی سرحدوں پر موجود امیگریشن چیک پوائنٹس اکثر طویل قطاروں، سخت سیکیورٹی جانچ اور گھنٹوں کے انتظار کی علامت بن چکے ہیں۔ یہ مسئلہ خاص طور پر اُن سرحدوں پر زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جہاں آمدورفت بے حد زیادہ ہو اور ہر روز ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ ایک طرف سے دوسری طرف جاتے ہوں۔ اسی تناظر میں ریاستہائے متحدہ اور میکسیکو کے درمیان سرحدی گزرگاہ دنیا کے مصروف ترین راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں خصوصاً سان ڈیاگو اور تیخوانا کے درمیان روزانہ سفر کرنے والے افراد کو طویل امیگریشن مراحل، ٹریفک جام اور گھنٹوں انتظار جیسی مشکلات کا سامنا رہتا ہے، جس نے اس بارڈر کو جدید سفری نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا دیا ہے۔ اس صورتحال کے حل کے طور پر ایک غیر معمولی اور جدید منصوبہ “کراس بارڈر ایکسپریس” کے نام سے متعارف کروایا گیا ہے۔ یہ ایک خصوصی پیدل چلنے والا بند پل اور مربوط ٹرمینل نظام ہے جو براہ راست سان ڈیاگو کو تیخوانا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے تیخوانا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے جوڑتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مسافروں کو ایک محفوظ اور کنٹرول شدہ راستے کے ذریعے سرحد عبور کرنے کی سہولت ملتی ہے، جس سے وہ روایتی گاڑیوں کی لمبی قطاروں اور پیچیدہ امیگریشن مراحل سے بڑی حد تک بچ جاتے ہیں۔ نتیجتاً سفر کا وقت کم ہوتا ہے اور سرحدی نظام پر دباؤ بھی نسبتاً کم محسوس کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکہ–میکسیکو سرحد جیسے حساس اور مصروف خطے میں یہ ماڈل مستقبل کے سفری اور سرحدی انتظام کی ایک جھلک پیش کرتا ہے، جہاں رفتار، سیکیورٹی اور سہولت کو ایک ساتھ متوازن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے

مزید پڑھیں