چین کی جوہری تیاریوں میں نیا موڑ؟ میزائل اڈوں کے گرد خفیہ تعمیرات نے دنیا کو چونکا دیا
نئی سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ چین اپنے شمال مغربی علاقے میں واقع جوہری میزائل تنصیبات کے قریب نئی لانچنگ گاہیں اور مضبوط دفاعی ڈھانچے تعمیر کر رہا ہے، جس سے عالمی سطح پر سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی جانب سے جائزہ لی گئی تصاویر کے مطابق یہ تعمیرات ان علاقوں کے قریب دیکھی گئی ہیں جہاں چین کے بین البرِاعظمی جوہری میزائلوں کے سائلوز موجود ہیں۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک ممکنہ حملے کی صورت میں چین کی جوابی جوہری صلاحیت کو مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق نئی تعمیرات میں لانچنگ مقامات، مضبوط بنکرز اور معاون فوجی ڈھانچے شامل ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بیجنگ اپنی جوہری قوت کے تحفظ اور بقا کو یقینی بنانے پر خاص توجہ دے رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تائیوان، بحیرہ جنوبی چین، تجارتی پابندیوں اور فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین اپنی جوہری پالیسی کو دفاعی قرار دیتا ہے، تاہم ان نئی تعمیرات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیجنگ مستقبل کے کسی بھی ممکنہ تصادم میں اپنی جوابی صلاحیت کو ناقابلِ نقصان بنانا چاہتا ہے۔ مبصرین کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے سامنے آنے والی یہ سرگرمیاں عالمی طاقتوں کے درمیان جاری اسلحہ جاتی مقابلے کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتی ہیں، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں بین الاقوامی سلامتی اور تزویراتی توازن پر پڑ سکتے ہیں


