چند دن یا چند گھنٹے؟ ایران-امریکہ معاہدہ یا جنگ… ٹرمپ کی دھمکی نے دنیا کو ہلا دیا
تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری خفیہ اور نازک سفارتی مذاکرات اس وقت فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گئے ہیں، جہاں ایک طرف ممکنہ معاہدے کی امیدیں ہیں تو دوسری طرف براہِ راست فوجی تصادم کا خطرہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق تہران نے امریکہ کی تازہ ترین تجویز پر باضابطہ ردعمل دے دیا ہے، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات “کسی حد تک کم” ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ معاملات اس حد تک آگے بڑھ سکتے ہیں کہ جلد ہی ایک “باہمی مفاہمتی یادداشت” کے اعلان کی راہ ہموار ہو جائے۔ اسی دوران حیران کن طور پر پاکستان کے آرمی چیف کے متوقع کردار کا بھی ذکر سامنے آیا ہے، جسے مبصرین ایک غیر معمولی سفارتی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کا دورہ دونوں فریقوں کے درمیان فاصلے کم کرنے اور کسی ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مدد دے سکتا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر “صحیح جواب” نہ ملا تو امریکہ تمام آپشنز کے ساتھ تیار ہے، اور فیصلہ “چند دنوں بلکہ شاید چند گھنٹوں” میں بھی ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، لیکن اگر معاہدہ ناکام ہوا تو صورتحال “انتہائی ناخوشگوار” رخ اختیار کر سکتی ہے۔ یہ تمام سفارتی کشمکش اس حساس خطے میں ہو رہی ہے جہاں آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارت کی شہ رگ سمجھی جاتی ہے، اور کسی بھی کشیدگی کا اثر فوری طور پر عالمی منڈیوں پر پڑتا ہے۔ تیل کی قیمتیں پہلے ہی غیر یقینی صورتحال کے باعث اوپر جا رہی ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں اس انتظار میں ہیں کہ آنے والے چند دن مشرقِ وسطیٰ کو امن کی طرف لے جائیں گے یا ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیں گے۔


