Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانپنجاب کے ہزاروں سرکاری اسکولوں کی نجی اداروں کے حوالے منتقلی، تعلیمی...

ٹرینڈنگ

پنجاب کے ہزاروں سرکاری اسکولوں کی نجی اداروں کے حوالے منتقلی، تعلیمی نظام پر نئے سوالات

پنجاب میں سرکاری اسکولوں کے انتظامی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی سامنے آ رہی ہے، جہاں ہزاروں اسکول مختلف اداروں کے حوالے کیے جا چکے ہیں اور مزید بڑے مرحلے کی تیاری جاری ہے۔ سرکاری تعلیمی نظام میں یہ تبدیلی ایک منظم پالیسی کے تحت کی جا رہی ہے جس کے تحت کم کارکردگی یا کم طلبہ والے اسکولوں کو مختلف تعلیمی اداروں، فاؤنڈیشنز اور غیر سرکاری تنظیموں کے سپرد کیا جا رہا ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک مختلف مراحل میں تقریباً دس ہزار سے پندرہ ہزار کے درمیان اسکولوں کا انتظام مختلف اداروں کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ ان میں ابتدائی بڑے مرحلے میں لگ بھگ پانچ ہزار آٹھ سو کے قریب اسکول شامل تھے، جبکہ بعد میں مزید چار سے پانچ ہزار اسکول مختلف مراحل میں شامل کیے گئے۔ اب ایک نئے مرحلے میں تقریباً پانچ ہزار آٹھ سو ساٹھ اسکولوں کی مزید منتقلی کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس کے بعد یہ عمل مزید وسیع ہو جائے گا۔ یہ اسکول براہِ راست نیلام نہیں کیے جا رہے بلکہ انہیں مختلف تعلیمی اداروں اور غیر سرکاری شراکت داروں کے ذریعے چلانے کے لیے دیا جا رہا ہے، جبکہ عمارتیں حکومت کی ملکیت میں ہی رہتی ہیں۔ حکومت کی جانب سے ہر طالب علم کے حساب سے متعلقہ اداروں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے تاکہ تعلیم کا تسلسل برقرار رہے۔ تاہم اس پالیسی پر کئی سوالات اور خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ موجودہ ماڈل میں تعلیم کو مفت رکھنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، لیکن اس میں مستقبل میں پالیسی تبدیلی کا امکان موجود رہتا ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی وقت حکومت تبدیل ہوتی ہے یا مالی پالیسی میں ردوبدل ہوتا ہے تو ان اسکولوں کے اخراجات، انتظامی ڈھانچے یا والدین پر مالی بوجھ کے حوالے سے نئی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ مزید خدشہ یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر نگرانی کا نظام کمزور ہوا تو بعض ادارے مختلف مدوں میں غیر رسمی اخراجات یا فیس کی شکل میں بوجھ ڈال سکتے ہیں، جس سے سرکاری تعلیم کا بنیادی مقصد متاثر ہو سکتا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پورا ماڈل ایک مستقل سرکاری نظام کے بجائے ایک شراکتی انتظامی ڈھانچہ بن رہا ہے، جو کسی بھی وقت پالیسی تبدیلی کے باعث تبدیل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق تعلیم جیسے بنیادی شعبے میں طویل المدتی استحکام ضروری ہے تاکہ والدین اور طلبہ کسی غیر یقینی صورتحال کا شکار نہ ہوں۔ دوسری جانب حکومتی مؤقف یہ ہے کہ اس پالیسی کا مقصد کمزور کارکردگی والے اسکولوں کو بہتر انتظام کے ذریعے فعال بنانا اور زیادہ سے زیادہ بچوں کو تعلیمی نظام میں لانا ہے، تاکہ شرح خواندگی میں اضافہ ہو سکے۔ مجموعی طور پر یہ معاملہ ایک ایسے تعلیمی ماڈل کی طرف اشارہ کر رہا ہے جس میں ریاستی ذمہ داری اور نجی انتظام کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم اس کے طویل مدتی اثرات پر بحث جاری ہے، یہاں بھی یاد رہے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف پنجاب میں اسکول جانے کے اہل نوے لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں جبکہ غیر سرکاری ذرائع یہ تعداد سوا کروڑ سے بھی زائد بتاتے ہیں جبکہ پورے ملک میں یہ تعداد تین کروڑ سے زائد بتائی جاتی ہے

مزید پڑھیں