ٹرمپ کے متنازع فنڈ پر اپنی ہی جماعت میں بغاوت، امریکی سینیٹ میں بڑا سیاسی بحران، قانون سازی خطرے میں
ٹرمپ کے متنازع فنڈ پر اپنی ہی جماعت میں بغاوت، امریکی سینیٹ میں بڑا سیاسی بحران، قانون سازی خطرے میں
امریکہ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ “اینٹی ویپنائزیشن فنڈ” نے ان کی اپنی جماعت کے اندر شدید اختلاف پیدا کر دیا ہے، جس کے باعث کانگریس میں قانون سازی کا عمل تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔
یہ فنڈ ٹرمپ کے اس مؤقف سے جڑا ہوا ہے کہ ان کے حامیوں، خصوصاً وہ افراد جن پر چھ جنوری دو ہزار اکیس کے کیپیٹل حملے کے بعد مقدمات قائم ہوئے، کو مبینہ طور پر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ ٹرمپ اس فنڈ کو اسی مبینہ “زیادتی” کے ازالے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
تاہم ریپبلکن جماعت کے متعدد اہم سینیٹرز نے اس تجویز پر سخت اعتراض کیا ہے۔ یوٹاہ سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نے اسے غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کسی بھی قسم کی اصلاح اسے قابلِ قبول نہیں بنا سکتی۔
اسی طرح شمالی کیرولائنا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نے اس فنڈ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایسے افراد کے لیے مالی فائدے کا منصوبہ قرار دیا جن کے بارے میں ان کے الفاظ میں سخت تحفظات پائے جاتے ہیں۔
پارٹی قیادت بھی اس اختلاف سے متاثر ہوئی ہے۔ سینیٹ میں اکثریتی رہنما نے ارکان کو وقفے پر بھیج دیا ہے کیونکہ اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکا۔ نتیجتاً امیگریشن اور سرحدی سیکیورٹی سے متعلق اہم قانون وقت پر منظور ہونے کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔
سیاسی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ معاملہ صرف ایک پالیسی تنازع نہیں بلکہ جماعتی اتحاد کے لیے بھی ایک بڑا امتحان بن چکا ہے، جو آنے والے دنوں میں امریکی سیاست پر مزید اثرات ڈال سکتا ہے


