ٹرمپ کے خلاف جانا اب سیاسی خودکشی؟ تھامس میسی کی شکست نے ریپبلکن پارٹی میں خوف، وفاداری اور بغاوت کی نئی لکیر کھینچ دی
“ٹرمپ کے خلاف جانا اب سیاسی خودکشی؟ — تھامس میسی کی شکست نے ریپبلکن پارٹی میں خوف، وفاداری اور بغاوت کی نئی لکیر کھینچ دی”
امریکہ کی ریپبلکن سیاست میں ایک اور طاقتور آواز خاموش ہو گئی، جب کینٹکی سے کانگریس کے رکن تھامس میسی ریپبلکن پرائمری میں شکست کھا گئے۔ یہ صرف ایک انتخابی ہار نہیں تھی، بلکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اُس سیاسی طاقت کا تازہ مظاہرہ تھی جو اب بھی ریپبلکن پارٹی پر غیر معمولی گرفت رکھتی ہے۔ ٹرمپ نے خود میسی کے خلاف امیدوار ایڈ گیلرین کی حمایت کی تھی، اور بالآخر وہی امیدوار کامیاب رہا۔
تھامس میسی 2012 سے کانگریس میں موجود تھے اور ریپبلکن پارٹی کے اُن چند سیاستدانوں میں شمار ہوتے تھے جو ٹرمپ کی ہر پالیسی پر اندھی حمایت کرنے کے بجائے اختلاف بھی کرتے تھے۔ انہوں نے جیفری ایپسٹین فائلز جاری کرنے کا مطالبہ کیا، ایران جنگ پر تنقید کی، اور گزشتہ سال ٹرمپ کے اہم ٹیکس بل کے خلاف ووٹ دیا۔ یہی اختلافات رفتہ رفتہ انہیں پارٹی کے مرکزی دھارے سے دور لے گئے۔
پرائمری کے نتائج سامنے آنے کے بعد میسی ایک پُرجوش ہجوم کے سامنے آئے، جہاں “No More Wars” اور “America First” جیسے نعرے لگ رہے تھے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے کہا کہ “اس ملک میں ایسے لوگوں کی خواہش موجود ہے جو پارٹی سے زیادہ اصولوں کے لیے ووٹ دیں۔” انہوں نے کانگریس میں ٹرمپ سے غیر مشروط وفاداری پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر قانون ساز صرف ہوا کا رخ دیکھ کر فیصلے کریں تو پھر یہ جمہوریت نہیں بلکہ “mob rule” بن جاتی ہے۔
دوسری جانب ایڈ گیلرین، جو سابق نیوی سیل رہ چکے ہیں، نے اپنی مہم فوجی پس منظر اور ٹرمپ سے وفاداری کے گرد تعمیر کی۔ انہوں نے میسی پر الزام لگایا کہ وہ ٹرمپ اور پارٹی دونوں سے دور ہو چکے تھے۔ اپنی کامیابی کے بعد انہوں نے سب سے پہلے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے مارچ میں خود کینٹکی جا کر ان کی انتخابی مہم کو تقویت دی تھی۔
یہ شکست اب ایک بڑے سیاسی رجحان کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کے دوسرے دور میں ایسے کئی ریپبلکن سیاستدان، جنہوں نے کسی نہ کسی موقع پر ان سے اختلاف کیا، پارٹی کے اندر ہی کمزور یا ختم کر دیے گئے۔ لوزیانا میں سینیٹر بل کیسڈی، جنہوں نے ماضی میں ٹرمپ پر تنقید کی تھی، اپنی ریپبلکن بنیاد کھو بیٹھے۔ انڈیانا کے کئی ریاستی سینیٹرز، جنہوں نے ری ڈسٹرکٹنگ کے معاملے پر ٹرمپ لائن سے ہٹنے کی کوشش کی، پرائمری میں شکست کھا گئے۔ پارٹی کے اندر یہ پیغام اب پہلے سے کہیں زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے: ٹرمپ کی حمایت کھونا اب صرف سیاسی اختلاف نہیں، سیاسی خطرہ بن چکا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ میسی نے اپنی آخری مہم میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ کوئی شخص بیک وقت ٹرمپ کا حامی بھی ہو سکتا ہے اور آزاد رائے بھی رکھ سکتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے ریپبلکن رکن کانگریس Lauren Boebert سمیت کئی قدامت پسند شخصیات کی حمایت حاصل کی، مگر ووٹرز نے آخرکار وہی راستہ چنا جس پر ٹرمپ کھڑے تھے۔
کینٹکی کی یہ پرائمری اب صرف ایک ریاستی مقابلہ نہیں رہی، بلکہ ریپبلکن پارٹی کے مستقبل کا اشارہ سمجھی جا رہی ہے — ایک ایسی جماعت جہاں نظریات، اصول اور قدامت پسندی سے زیادہ اہم سوال شاید اب صرف یہ رہ گیا ہے: “کیا آپ ٹرمپ کے ساتھ ہیں یا نہیں؟”


