ٹرمپ کیلئے اربوں ڈالر کا خفیہ خزانہ؟ سابق وفاقی ججوں نے امریکی عدلیہ کو ہلا کر رکھ دیا
ٹرمپ کے لیے اربوں ڈالر کا خفیہ خزانہ؟ سابق وفاقی ججوں نے امریکی عدلیہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ امریکا میں ایک نیا سیاسی اور قانونی طوفان کھڑا ہو گیا ہے جہاں پینتیس سابق وفاقی ججوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی ٹیکس ادارے انٹرنل ریونیو سروس (IRS) کے درمیان ہونے والے ایک حیران کن معاہدے کو “عدالتی دھوکہ” قرار دیتے ہوئے عدالت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر دیا ہے۔ سابق ججوں نے امریکی عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں کہا ہے کہ ٹرمپ خاندان کے مقدمے کو اچانک ختم کر کے تقریباً ایک کھرب اسی ارب روپے سے بھی زائد مالیت کے ایک بڑے مالیاتی فنڈ کا قیام نہ صرف مشکوک ہے بلکہ اس کے پیچھے ریاستی طاقت کے ممکنہ غلط استعمال کی بو آ رہی ہے۔ یہ تنازع اُس وقت شدت اختیار کر گیا جب یہ انکشاف سامنے آیا کہ ٹرمپ اور اُن کے قریبی حلقوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایک ایسا خصوصی فنڈ بنایا گیا جس کے ذریعے اُن افراد کو رقوم دی جائیں گی جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ماضی میں انہیں ریاستی اداروں نے سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا۔ سابق وفاقی ججوں نے عدالت سے کہا ہے کہ یہ صرف ایک قانونی سمجھوتہ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر امریکی عدالتی نظام کو استعمال کرتے ہوئے ایک خطرناک سیاسی منصوبہ ہو سکتا ہے۔ امریکی سیاسی حلقوں میں اس معاملے نے کھلبلی مچا دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر یہ معاہدہ برقرار رہا تو یہ امریکی تاریخ کے اُن متنازع ترین فیصلوں میں شمار ہو سکتا ہے جہاں اقتدار، عدلیہ اور سرکاری اداروں کے درمیان حدیں دھندلا دی گئیں۔ دوسری جانب ٹرمپ کے حامی اسے سیاسی انتقام کا شکار افراد کے لیے انصاف قرار دے رہے ہیں۔ یہ معاملہ اُس وقت شروع ہوا تھا جب ٹرمپ خاندان نے اپنے خفیہ ٹیکس ریکارڈ منظرِ عام پر آنے کے بعد امریکی ٹیکس ادارے کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ اب سابق جج یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ ایک حساس مقدمہ اچانک ختم ہوا، اربوں ڈالر کا فنڈ قائم ہوا، اور پورے عمل پر غیر معمولی رازداری کا پردہ ڈال دیا گیا۔ واشنگٹن کے سیاسی ایوانوں میں اب یہ چہ مگوئیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ اگر عدالت نے اس مقدمے کو دوبارہ کھول دیا تو امریکا ایک ایسے قانونی بھونچال میں داخل ہو سکتا ہے جو صدارتی سیاست، عدالتی ساکھ اور ریاستی طاقت کے استعمال سے متعلق کئی خطرناک راز بے نقاب کر دے گا۔


