ٹرمپ کا $1.8 ارب کا نیا ‘اینٹی ویپنائزیشن فنڈ قانونی سوالات، کانگریس اور ماہرین میں ہلچل”واشنگٹن
ٹرمپ کا $1.8 ارب کا نیا ‘اینٹی ویپنائزیشن فنڈ’ — قانونی سوالات، کانگریس اور ماہرین میں ہلچل”واشنگٹن:امریکی سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جب یہ انکشاف سامنے آیا کہ ایک مجوزہ “اینٹی ویپنائزیشن پروگرام” کو تقریباً 1.8 ارب ڈالر کی فنڈنگ امریکی Judgment Fund سے دی جائے گی—ایک ایسا سرکاری فنڈ جو اصل میں حکومت کے خلاف عدالتی فیصلوں اور تصفیوں کی ادائیگی کے لیے بنایا گیا تھایہ فنڈ 1956 میں امریکی کانگریس نے قائم کیا تھا، اور ابتدا میں اس کی حد ایک لاکھ ڈالر تک محدود تھی، تاہم 1970 کی دہائی میں کانگریس نے یہ حد ختم کر دی تھی، جس کے بعد اس کے استعمال کا دائرہ وسیع ہوتا گیا۔نیا فنڈ اور غیر واضح معیاررپورٹس کے مطابق نئی اسکیم کے تحت یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کن افراد کو اس فنڈ سے رقوم دی جائیں گی، نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ ادائیگیوں کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد (cap) مقرر ہوگی یا نہیںمعاہدے کی تفصیلات کے مطابق اس فنڈ کی نگرانی کے لیے ایک پانچ رکنی کمیشن تشکیل دیا جائے گا، جس میں چار ارکان کا تقرر قائم مقام اٹارنی جنرل Todd Blanche کریں گے، جبکہ ایک رکن کا انتخاب کانگریس قیادت سے مشاورت کے بعد ہوگاسینیٹ میں حالیہ سماعت کے دوران Todd Blanche نے کہا کہ یہ کمیشن ہی طے کرے گا کہ کن افراد کو ریلیف ملے گا اور کتنی رقم دی جائے گیسیاسی اور قانونی تنازعاس منصوبے پر فوری طور پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فنڈنگ نہ صرف شفافیت کے سوالات اٹھاتی ہے بلکہ اس کے قانونی ڈھانچے پر بھی سنگین تحفظات موجود ہیںماہرین کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ایگزیکٹو اختیارات کے ذریعے اس نوعیت کا بڑا مالی پروگرام کس حد تک کانگریس کی منظوری اور نگرانی کے بغیر چلایا جا سکتا ہےابھرتا ہوا تنازعیہ معاملہ واشنگٹن میں ایک نئے سیاسی تنازع کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے، جہاں ایک طرف اسے “انتظامی انصاف” کا منصوبہ کہا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اسے ممکنہ طور پر غیر واضح اور متنازع فنڈنگ اسکیم قرار دیا جا رہا ہے


