ٹرمپ انتظامیہ کا ماحولیاتی قواعد میں نرمی کا فیصلہ، صارفین کے لیے قیمتوں میں کمی کے دعوے پر سوالات اٹھ گئے
ٹرمپ انتظامیہ کا ماحولیاتی قواعد میں نرمی کا فیصلہ، صارفین کے لیے قیمتوں میں کمی کے دعوے پر سوالات اٹھ گئے
امریکہ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق دو اہم قواعد میں تاخیر کا اعلان کیا ہے، جن کا تعلق ریفریجریشن سسٹمز سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں اور لیکج کی روک تھام سے تھا۔
انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس فیصلے سے کاروباری اداروں اور خاندانوں کو مجموعی طور پر دو اعشاریہ چار ارب ڈالر سے زیادہ کی بچت ہوگی، جس کا فائدہ بالآخر عام صارفین کو گروسری کی قیمتوں میں کمی کی صورت میں پہنچ سکتا ہے۔
تاہم اس دعوے پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ کیا واقعی یہ بچت دکانوں اور سپر مارکیٹوں کے ذریعے خریداروں تک منتقل بھی ہوگی یا نہیں۔ بڑی خوردہ کمپنیوں کی جانب سے اس بارے میں واضح یقین دہانی نہیں دی گئی کہ وہ قیمتوں میں کمی کریں گی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان تبدیلیوں سے کاروباری اداروں کو یہ آزادی ملے گی کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق ریفریجریشن سسٹمز منتخب کریں، جس سے ان کے اخراجات کم ہوں گے۔ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ اس کے اثرات براہ راست امریکی خاندانوں کو کم قیمتوں کی صورت میں محسوس ہوں گے۔
دوسری جانب یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ان قواعد کا تعلق ان صنعتی گیسوں سے ہے جو عالمی حدت میں اضافے کا سبب سمجھی جاتی ہیں، اور سابقہ انتظامیہ کے دور میں ان کے اخراج اور رساؤ کو کم کرنے کے لیے سخت ضابطے نافذ کیے گئے تھے۔
نئے فیصلے کے تحت ان قواعد پر عمل درآمد کی مدت کو آگے بڑھا دیا گیا ہے، جس کے بعد ماہرین کے مطابق یہ سوال برقرار ہے کہ آیا اس پالیسی سے واقعی عام صارفین کو فوری معاشی ریلیف ملے گا یا نہیں، یا یہ فائدہ صرف کاروباری اداروں تک محدود رہ جائے گا


