واشنگٹن میں ایک وفاقی جج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایک بڑے مالی منصوبے پر فوری پیش رفت سے روک دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 1.776 ارب ڈالر کا “اینٹی ویپنائزیشن فنڈ” قائم کیا جانا تھا
واشنگٹن میں وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے بڑے مالی منصوبے پر عارضی روک لگا دی۔ واشنگٹن میں ایک وفاقی جج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو ایک بڑے مالی منصوبے پر فوری پیش رفت سے روک دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت تقریباً 1.776 ارب ڈالر کا “اینٹی ویپنائزیشن فنڈ” قائم کیا جانا تھا۔ عدالت نے حکم جاری کیا ہے کہ اس فنڈ کی تشکیل اور اس سے ممکنہ ادائیگیوں پر کم از کم دو ہفتوں کے لیے مکمل پابندی رہے گی، جب تک کیس کی مزید سماعت نہیں ہو جاتی۔ یہ فنڈ ان افراد کے لیے تجویز کیا گیا تھا جو یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ انہیں ریاستی اداروں کے مبینہ سیاسی استعمال یا جانبداری کا نشانہ بنایا گیا، تاہم منصوبے کے خلاف قانونی اعتراضات سامنے آنے پر عدالت نے فوری طور پر کارروائی روک دی۔ جج نے آئندہ سماعت 12 جون کو مقرر کی ہے، جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ عارضی پابندی برقرار رہے گی یا ختم کر دی جائے گی۔ یہ معاملہ صرف مالیاتی تنازع نہیں بلکہ اس بحث کو بھی دوبارہ زندہ کر رہا ہے کہ ریاستی طاقت، سیاسی اختلافات اور قانونی تصفیوں کے درمیان حد کہاں کھینچی جائے۔


