Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہواشنگٹن، 30 مئی 2026 — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو...

ٹرینڈنگ

واشنگٹن، 30 مئی 2026 — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو گرین کارڈ سے متعلق نئی امیگریشن پالیسی پر شدید ردعمل کے بعد وضاحتیں دینا پڑ رہی ہیں

واشنگٹن، 30 مئی 2026 — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو گرین کارڈ سے متعلق نئی امیگریشن پالیسی پر شدید ردعمل کے بعد وضاحتیں دینا پڑ رہی ہیں۔ چند روز قبل امریکی شہریت و امیگریشن سروس کی جانب سے جاری ہدایات نے یہ تاثر پیدا کیا تھا کہ امریکہ میں موجود بڑی تعداد میں ایسے افراد، جو ملازمت یا خاندانی بنیادوں پر مستقل رہائش حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں اپنی درخواستوں کا عمل مکمل کرنے کے لیے امریکہ چھوڑ کر اپنے آبائی ممالک جانا پڑے گا۔

اس اعلان کے بعد امیگریشن وکلاء، کاروباری اداروں اور تارکین وطن کی تنظیموں نے خبردار کیا کہ اگر پالیسی کا اطلاق وسیع پیمانے پر کیا گیا تو لاکھوں افراد غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اس سے خاندانوں کی علیحدگی، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور افرادی قوت کی کمی جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

تاہم بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد انتظامیہ کے حکام نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نئی ہدایات کا مقصد قانونی عمل کو واضح کرنا ہے، نہ کہ تمام درخواست گزاروں کو امریکہ چھوڑنے پر مجبور کرنا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مخصوص حالات اور قومی مفاد سے جڑے معاملات میں استثنا موجود رہے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازع صرف امیگریشن پالیسی کا معاملہ نہیں بلکہ سیاسی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سیاسی حکمت عملی میں سرحدی تحفظ اور امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کو ہمیشہ مرکزی حیثیت دی ہے، لیکن کاروباری حلقوں اور قانونی ماہرین کی جانب سے بڑھتے دباؤ نے انتظامیہ کو نسبتاً نرم وضاحتیں دینے پر مجبور کر دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ نئی پالیسی کیا کہتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد کس حد تک اور کن طبقات پر ہوگا۔ اگر حکومتی ادارے سخت تشریح اختیار کرتے ہیں تو ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں افراد کے مستقبل پر اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امیگریشن برادری اب انتظامیہ کے اگلے اقدامات اور عملی نفاذ کا انتظار کر رہی ہے، کیونکہ آنے والے ہفتے اس پالیسی کے حقیقی اثرات کو واضح کریں گے۔

مزید پڑھیں