Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہنیویارک تحریک انصاف کا خوف اسحاق ڈار نے کمیونٹی کی بجائے مخصوص...

ٹرینڈنگ

نیویارک تحریک انصاف کا خوف اسحاق ڈار نے کمیونٹی کی بجائے مخصوص افراد سے ملاقات کی

نیویارک: تحریک انصاف کا خوف، اسحاق ڈار نے چھپ کر کمیونٹی میں پسندیدہ افراد سے ملاقات کی

پاکستان میں فارم 47 کے زور پر چلنے والی اتحادی حکومت کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دو روز قبل کمیونٹی سے ملاقات کے نام پر اے پی پیک کے بانی ڈاکٹر اعجاز کے گھر بیس سے پچیس افراد سے ملاقات کی اور مسلم لیگ کی سابقہ حکومتوں اور امریکہ سے تعلقات میں آنے والے اتار چڑھاؤ کا تفصیل سے ذکر کیا۔ اس موقع پر مقامی مسلم لیگ کے صدر روحیل ڈار اور ایک عہدیدار راجہ رزاق کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے مقامی سینئر رہنما سرور چوہدری بھی موجود تھے۔ اسحاق ڈار نے پاکستان کے گھمبیر سے گھمبیر ہوتے موجود معاشی، سیاسی اور سماجی مسائل کو نظر انداز کرکے کلنٹن دور میں ایف سولہ کی رقم واپسی سے لے کر بھارت سے حالیہ کشیدگی میں پاکستانی فتح کے دعووں اور میاں نواز شریف کے سابقہ حکومتی ادوار کے کارناموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ ابراہم معاہدے پر پاکستان اس وقت تک دستخط نہیں کرے گا جب تک اسرائیل فلسطین کے دو ریاستی حل پر رضا مند نہیں ہو جاتا۔ واضح رہے اسحاق ڈار جو ان دنوں اقوام متحدہ کے سیشن میں شرکت کے لیے نیویارک آئے ہوئے تھے اور جن کی کمیونٹی سے ملاقات کے لیے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی کمیونٹی میں پسندیدہ بعض تنظیموں نے ایک مشترکہ پلیٹ فارم سے معرکہ حق میں فتح کے جشن منانے کے لیے بڑی تقریب کا اعلان کیا تھا جس میں چار سو سے زائد افراد کی شرکت متوقع تھی تاہم پاکستانی سفارت کاروں نے مذکورہ تقریب میں نائب وزیراعظم کو یہ کہہ کر جانے سے روک دیا کہ تقریب کا اہتمام کرنے والے سرکردہ لوگ مبینہ طور پر کمیونٹی سے تقریب کے اخراجات کے نام پر چندہ اکٹھا کر رہے ہیں۔ نائب وزیراعظم کی تقریب میں شرکت یہ کہہ کر کینسل کی گئی کہ عین تقریب کے روز ان کی ایک اہم ترین سفارتی مصروفیت نکل آئی ہے۔ تقریب کا انعقاد کرنے والی تنظیموں کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذکورہ تقریب کے لیے سفارت کاروں کے ایما پر لانگ آئلینڈ کا ایک ممتاز اور مہنگا کیٹرنگ ہال ستر ڈالر فی کس سروس چارجز کے ساتھ بک کیا گیا تھا جبکہ کھانے کی قیمت اس کے علاوہ تھی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کمیونٹی سے چندہ اکٹھا کرنے کے الزامات مکمل غلط ہیں البتہ جو تنظیمیں مذکورہ تقریب کے انتظام میں شامل تھیں ان سے اخراجات میں حصہ ڈالنے کے لیے کہا گیا تھا اور ان تنظیموں میں اے پی پیک بھی شامل تھی جس کے بانی ڈاکٹر اعجاز ہیں اور بعد ازاں نائب وزیراعظم کو کمیونٹی سے ملانے کے نام پر ڈاکٹر اعجاز کے گھر لے جایا گیا جہاں صرف بیس سے پچیس افراد موجود تھے۔ ادھر اہم پاکستانی سفارتی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے موجود گھمبیر سیاسی، معاشی مسائل اور عوام میں حکومت کی گری ساکھ کو دیکھ کر فیصلہ کیا گیا تھا کہ موجود حالات میں نائب وزیراعظم کو عوامی تقریبات سے دور رکھا جائے خصوصاً یورپ اور امریکہ میں جہاں تحریک انصاف عوامی سطح پر مقبول ہے۔ اوورسیز پاکستانیوں کے اجتماع میں جانا یوں بھی درست نہیں کہ مضبوط جمہوریتوں اور آزاد معاشروں میں رہنے والے پاکستانی ملکی حالات کے سیاسی و معاشی تناظر میں سوال کرکے حکومتی نمائندوں کے لیے بڑی شرمندگی اور ندامت کا باعث بن سکتے ہیں اور ایسی تقریبات میں ہلڑ بازی کے امکانات بھی رد نہیں کیے جا سکتے۔ تقریب کے شرکاء کے ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔ اس موقع پر جب اسحاق ڈار نے بتایا کہ انہوں نے کس طرح کلنٹن انتظامیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا کہ ہم ایف سولہ کی ستر فیصد رقم نہیں بلکہ پوری رقم واپس لیں گے تو کمیونٹی کے نامور “خادم” صحافی نے حسبِ معمول سوال کرتے ہوئے اپنی بڑائی کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے سوال کی ابتدا “خادم کی خدائی” سے کی اور تقریر نما سوال کرتے ہوئے کہا کہ کلنٹن انتظامیہ نے اس خادم کے سوال پر ہی ایف سولہ کی رقم کے معاملے پر۔۔۔ ابھی وہ بات شروع ہی کر رہے تھے کہ اسحاق ڈار نے طنزیہ ہنستے ہوئے کہا کہ نہیں ہم آپ کے سوال سے پہلے ہی کلنٹن انتظامیہ سے حتمی بات کر چکے تھے۔

مزید پڑھیں