ناسا کا نیا اقدام: مصنوعی ذہانت کے ذریعے خطرناک الگی (Algae) کے پھیلاؤ کی پیشگی نشاندہی
امریکی خلائی ادارے ناسا نے ایسے جدید مصنوعی ذہانت (AI) نظام پر کام شروع کر دیا ہے جو سمندروں اور ساحلی علاقوں میں خطرناک الگی (Harmful Algae Blooms) کے پھیلاؤ کو اس سے پہلے ہی شناخت کر سکے گا کہ یہ انسانی صحت یا معیشت کے لیے خطرہ بنیں۔ غیر ملکی رپورٹ کے مطابق یہ الگی تیزی سے پھیل کر نہ صرف مچھلیوں اور سمندری حیات کو نقصان پہنچا سکتی ہے بلکہ بعض اقسام ہوا کو بھی آلودہ کر دیتی ہیں جس سے سانس لینے میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ماہی گیری، سیاحت اور ساحلی علاقوں کی معاشی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ وقت پر بروقت تشخیص ہے، کیونکہ جب تک پانی کا رنگ بدلنے یا مردہ مچھلیوں کے نظر آنے جیسے آثار سامنے آتے ہیں، تب تک یہ خطرناک پھیلاؤ کافی آگے بڑھ چکا ہوتا ہے۔ موجودہ طریقہ کار میں پانی کے نمونے لینے، لیبارٹری ٹیسٹنگ اور نتائج کے انتظار میں ایک سے زیادہ دن لگ سکتے ہیں۔ ناسا کے مطابق نئے AI نظام کا مقصد سیٹلائٹ ڈیٹا اور جدید الگورتھمز کی مدد سے ایسے علاقوں کی فوری نشاندہی کرنا ہے جہاں الگی کے پھیلنے کا خطرہ زیادہ ہو، تاکہ مقامی انتظامیہ بروقت اقدامات کر سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی کامیاب ہو گئی تو یہ ساحلی ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور انسانی صحت کے خطرات کو کم کرنے میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے


