میٹا کا $200 ارب تک پھیلنے والا “Hyperion” منصوبہ: لوزیانا میں دنیا کا سب سے بڑا AI ڈیٹا سینٹر تعمیر
میٹا کا 200 ارب ڈالر تک پھیلنے والا “ہائپیریون” منصوبہ: لوزیانا میں دنیا کا سب سے بڑا اے آئی ڈیٹا سینٹر تعمیر۔ امریکی ٹیک کمپنی میٹا پلیٹ فارمز ریاست لوزیانا کے ریچلینڈ پیرش میں ایک انتہائی بڑے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ڈیٹا سینٹر کمپلیکس کی تعمیر کر رہی ہے، جسے “ہائپیریون” منصوبہ کہا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ ابتدائی طور پر تقریباً 10 ارب ڈالر کا تھا، لیکن مختلف مراحل، توانائی انفراسٹرکچر اور توسیعی منصوبوں کو شامل کیا جائے تو اس کی مجموعی لاگت 27 ارب ڈالر سے بڑھ کر مستقبل میں 200 ارب ڈالر تک کے ممکنہ اسکیل تک پہنچنے کی بات بھی سامنے آ رہی ہے۔ یہ منصوبہ تقریباً 2,250 ایکڑ رقبے پر محیط ہے اور اسے دنیا کے سب سے بڑے اے آئی کمپیوٹنگ مراکز میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق یہ کمپلیکس کئی گیگاواٹ کمپیوٹنگ پاور استعمال کرے گا، جو کسی بھی روایتی ڈیٹا سینٹر سے کہیں زیادہ ہے۔ توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے علاقے میں نئی گیس پاور تنصیبات بھی زیر تعمیر ہیں، جس پر ماحولیاتی ماہرین اور مقامی سطح پر خدشات سامنے آ رہے ہیں کہ اس منصوبے کا بوجھ مستقبل میں بجلی کے نظام اور ماحول دونوں پر پڑ سکتا ہے۔ امریکی ریاستی حکومت نے اس منصوبے کو خطے کی معیشت کے لیے ایک بڑی سرمایہ کاری قرار دیا ہے، جبکہ مقامی سطح پر اسے روزگار اور انفراسٹرکچر کی ترقی کا موقع سمجھا جا رہا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ منصوبہ صرف ایک ڈیٹا سینٹر نہیں بلکہ ٹیک انڈسٹری میں “اے آئی پاور ریس” کا حصہ ہے، جہاں کمپنیاں مستقبل کے مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کے لیے بے حد بڑے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ یوں لوزیانا کا یہ منصوبہ ایک طرف ٹیکنالوجی کی نئی حدیں دکھا رہا ہے، تو دوسری طرف توانائی، ماحول اور معاشی اثرات پر ایک بڑی بحث بھی چھیڑ رہا ہے۔


