Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںمیانمار میں نیشنل لبریشن آرمی کی خوفناک کاروائی ، 55 افراد مار...

ٹرینڈنگ

میانمار میں نیشنل لبریشن آرمی کی خوفناک کاروائی ، 55 افراد مار ڈالے ، ، 25 خواتین بھی جاں بحق

میانمار میں نیشنل لبریشن آرمی کی خوفناک کاروائی ، 55 افراد مار ڈالے ، ، 25 خواتین بھی جاں بحق

میانمار کے شمال مشرقی صوبے شان میں ایک ہولناک دھماکے نے پورے علاقے کو سوگ میں ڈبو دیا، جہاں کم از کم 55 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 25 خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق دھماکہ نامکھام کے علاقے میں واقع ایک ایسے گودام میں ہوا جہاں کان کنی کے کاموں میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کیا گیا تھا۔ دھماکے کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ قریبی عمارتیں لرز اٹھیں، متعدد مکانات کو نقصان پہنچا اور دور دور تک دھوئیں کے بادل دکھائی دیتے رہے۔ امدادی کارکنوں نے ملبے سے لاشیں اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے کئی گھنٹوں تک کارروائیاں جاری رکھیں۔

یہ علاقہ تآنگ نیشنل لبریشن آرمی کے زیرِ انتظام سمجھا جاتا ہے، جو میانمار کی تآنگ نسلی برادری کی ایک مسلح تنظیم ہے۔ یہ گروہ کئی برسوں سے میانمار کی فوج اور مرکزی حکومت کے خلاف برسرِ پیکار ہے اور اپنے علاقوں کے لیے زیادہ خودمختاری، نسلی حقوق کے تحفظ اور وفاقی طرز کے نظام کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

دو ہزار اکیس میں فوجی اقتدار سنبھالنے کے بعد میانمار میں خانہ جنگی مزید شدت اختیار کر گئی تھی، جس کے بعد تآنگ نیشنل لبریشن آرمی سمیت متعدد نسلی مسلح گروہوں نے فوجی حکومت کے خلاف اپنی کارروائیاں بڑھا دی تھیں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران اس گروہ نے شمالی میانمار کے کئی علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ مضبوط کیا ہے اور بعض اہم علاقوں کا انتظام بھی سنبھال رکھا ہے۔

دھماکے کے بعد تنظیم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ ایک حادثاتی دھماکہ معلوم ہوتا ہے، تاہم حکام نے ابھی حتمی نتیجہ جاری نہیں کیا۔ اس وقت یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ دھماکے کے وقت گودام میں دھماکہ خیز مواد کی کتنی مقدار موجود تھی۔

سیاسی اور عسکری مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ سانحہ نہ صرف انسانی جانوں کے بڑے نقصان کا باعث بنا ہے بلکہ اس نے ایک بار پھر میانمار میں جاری بدامنی، مسلح کشمکش اور ریاستی کمزوریوں کو دنیا کے سامنے نمایاں کر دیا ہے۔ مقامی آبادی شدید خوف و ہراس کا شکار ہے جبکہ متاثرہ خاندان اپنے پیاروں کی ہلاکت پر غم اور صدمے کی کیفیت میں مبتلا ہیں۔

شان صوبے میں پیش آنے والا یہ المناک واقعہ حالیہ برسوں کے دوران ان علاقوں میں ہونے والے مہلک ترین دھماکوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جس نے میانمار کے جاری بحران میں ایک اور دردناک باب کا اضافہ کر دیا ہے

مزید پڑھیں