Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہمیامی کے سمندر سے اٹھنے والی ایک پرانی چیخ تقریباً تیس برس...

ٹرینڈنگ

میامی کے سمندر سے اٹھنے والی ایک پرانی چیخ تقریباً تیس برس بعد پھر واشنگٹن کے ایوانوں میں گونج اٹھی۔

میامی کے سمندر سے اٹھنے والی ایک پرانی چیخ تقریباً تیس برس بعد پھر واشنگٹن کے ایوانوں میں گونج اٹھی۔
“نوّے برس کے انقلابی پر قتل کا مقدمہ”
امریکہ نے راول کاسترو پر 1996 میں شہری طیارے گرانے اور چار افراد کے قتل کی فردِ جرم عائد کر دی۔
میامی کی مرطوب فضا، جلاوطنی کے زخموں سے بھرے چہرے، اور آزادی کے مینار کی خاموش دیواریں — بدھ کے روز یہ سب ایک ایسے لمحے کے گواہ بنے جب امریکہ نے کیوبا کی انقلابی تاریخ کے ایک طاقتور ترین نام کو باضابطہ طور پر قاتل قرار دینے کی کوشش کی۔
پچانوے برس کے قریب پہنچنے والے راول کاسترو، جو برسوں تک کیوبا کی اصل طاقت سمجھے جاتے رہے، اب ایک امریکی فردِ جرم کے مرکز میں ہیں۔ امریکی محکمۂ انصاف نے ان پر اور ان کے چند ساتھیوں پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے 1996 میں دو غیر مسلح شہری طیارے تباہ کرنے کی سازش کی، جس کے نتیجے میں چار کیوبن نژاد امریکی ہلاک ہوئے۔
یہ اعلان میامی کے تاریخی “فریڈم ٹاور” میں کیا گیا — وہ عمارت جو کبھی کیوبا سے فرار ہو کر آنے والے تارکینِ وطن کے خوابوں اور آنسوؤں کی پہلی پناہ گاہ تھی۔ ہال میں موجود لوگ بار بار کھڑے ہو کر تالیاں بجاتے رہے؛ کچھ چہرے خوشی سے بھیگے ہوئے تھے، کچھ پر تین دہائیوں پرانا غصہ آج بھی تازہ دکھائی دیتا تھا۔
قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے سخت لہجے میں اعلان کیا:
“ہم راول کاسترو اور دیگر افراد پر امریکی شہریوں کے قتل کی سازش کا الزام عائد کر رہے ہیں۔”
یہ جملہ ختم ہوتے ہی ہال ایک بار پھر نعروں اور تالیوں سے گونج اٹھا۔
فردِ جرم کے مطابق 1996 میں میامی سے اڑنے والے دو چھوٹے طیارے، جو سمندر کے اوپر انسانی امدادی مشنوں سے وابستہ سمجھے جاتے تھے، کیوبا کے جنگی طیاروں نے مار گرائے۔ چند لمحوں میں آسمان آگ اور دھوئیں میں بدل گیا۔ چار افراد — آرماندو الیخاندری، ماریو دی لا پینا، کارلوس کوسٹا اور پابلو مورالس — سمندر کی گہرائیوں میں ہمیشہ کے لیے اتر گئے۔
واشنگٹن نے اس حملے کو طویل عرصے سے “ریاستی قتل” قرار دیا ہوا ہے، جبکہ ہوانا مسلسل یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ طیاروں نے کیوبا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔
لیکن اب، تقریباً تیس برس بعد، امریکہ نے اس واقعے کو صرف سفارتی تنازع نہیں بلکہ قتل کی مجرمانہ سازش قرار دے دیا ہے۔
یہ اعلان ایک اور وجہ سے بھی غیر معمولی تھا: یہ کیوبا کے یومِ آزادی کی سالگرہ کے دن سامنے آیا۔ جیسے واشنگٹن نے جان بوجھ کر تاریخ کے ایک زخم کو اسی دن دوبارہ کھولا ہو جس دن کیوبا اپنی قومی خودمختاری کا جشن مناتا ہے۔
راول کاسترو شاید کبھی امریکی عدالت میں پیش نہ ہوں۔ شاید یہ مقدمہ صرف علامتی ہو۔ مگر میامی میں موجود ان خاندانوں کے لیے، جنہوں نے سمندر کے اوپر اپنے پیارے کھوئے تھے، یہ لمحہ انصاف سے کم نہیں تھا۔

مزید پڑھیں