مومنہ چڈھڑ اسکینڈل ، ادارہ جاتی خاموشی پر سوالات
اسلام آباد — پاکستان میں سوشل میڈیا پر معروف سیاسی اور شوبز شخصیات مومنہ اقبال اور رکن صوبائی اسمبلی چڈھڑ کے حوالے سے پھیلنے والی مختلف دعووں اور الزامات نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں معلومات، افواہوں اور الزام تراشی کے درمیان حد کہاں قائم کی جائے؟ گزشتہ دنوں مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر ان معروف شخصیات کے بارے میں متضاد اور غیر مصدقہ دعوے زیرِ گردش رہے، جن میں نجی تعلقات اور ذاتی زندگی سے متعلق باتیں بھی شامل ہیں۔ ان بیانیوں نے نہ صرف سوشل میڈیا پر شدید ردعمل پیدا کیا بلکہ ایک بڑے اخلاقی اور ادارہ جاتی سوال کو بھی سامنے لا کھڑا کیا ہے مبصرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی صورتحال میں اگر کسی بھی معاملے میں حقیقت یا قانون شکنی کا شبہ ہو تو اس کے لیے واضح، شفاف اور باقاعدہ طریقہ کار موجود ہونا چاہیے، جیسے عدالتی کمیشن، تحقیقاتی کمیٹی یا پارلیمانی نگرانی، تاکہ الزامات اور قیاس آرائیوں کے درمیان فرق واضح کیا جا سکے تجزیہ کاروں کے مطابق مسئلہ صرف مخصوص افراد نہیں بلکہ ایک وسیع تر رجحان ہے، جہاں سوشل میڈیا پر بے بنیاد یا نامکمل معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں اور ان کا جواب اکثر ادارہ جاتی سطح پر بروقت نہیں دیا جاتا، جس سے معاشرتی تقسیم اور بداعتمادی میں اضافے ساتھ معاشرتی قدروں پر بھی گہری ضرب پڑتی ہے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی فرد پر لگائے گئے الزامات کو صرف سوشل میڈیا مواد کی بنیاد پر حقیقت تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی ایسے معاملات کا فیصلہ عوامی رائے یا آن لائن ٹرینڈز کی بنیاد پر ہونا چاہیے ان کے مطابق اگر واقعی کسی معاملے میں سنجیدہ نوعیت کے شواہد موجود ہوں تو انہیں مناسب قانونی فورمز پر لے جا کر باقاعدہ تحقیقات کرانا ہی واحد قابلِ اعتماد راستہ ہے، تاکہ نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے ہوں بلکہ بے گناہی اور الزام کے درمیان فرق بھی برقرار رہے تجزیہ کار اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ریاستی اداروں کی خاموشی یا غیر واضح ردعمل ایسے معاملات میں مزید کنفیوژن پیدا کرتا ہے، جس سے عوامی سطح پر افواہیں اور قیاس آرائیاں زیادہ مضبوط ہو جاتی ہیں یوں یہ معاملہ محض دو افراد کے گرد بحث نہیں بلکہ ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ریاست، میڈیا اور قانون کیسے یقینی بنائیں کہ معلومات، انصاف اور ساکھ تینوں کا توازن برقرار رہے۔


