Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںمعاہدہ ابراہم: ٹرمپ نے مسلم ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے غلط...

ٹرینڈنگ

معاہدہ ابراہم: ٹرمپ نے مسلم ممالک پر دباؤ ڈالنے کے لیے غلط وقت کا انتخاب کیا

ٹرمپ نے تہران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل کو معاہدہ ابراہیمی سے جوڑتے ہوئے سعودی عرب، پاکستان، قطر، ترکیہ، اردن، مصر و دیگر ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس میں شامل ہوں اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائیں۔ ٹرمپ کے بقول ممکن ہے کہ ایک یا دو ممالک کے پاس اس میں شامل نہ ہونے کی کوئی وجہ ہو اور اسے قبول کیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے معاہدہ ابراہیمی کا حصہ بننے کی امریکی صدر کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔ پاکستان کے سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ کا بیان جنگ بندی کی سفارت کاری کو معاہدہ ابراہیمی کے وسیع تر دائرے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتا ہے۔ معاہدہ ابراہیمی اور ایران ڈیل دو الگ الگ معاملات ہیں۔ یہ دونوں امور آپس میں جڑے ہوئے نہیں ہیں اور نہ ہی انہیں ایسا بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان پر اس طرح کے کسی بھی مطالبے کو ماننے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ہے جبکہ سعودی عرب نے بھی امریکی صدر کی تجویز کو ٹھکرا دیا ہے، ادھر مشرقِ وسطیٰ اور مسلم ممالک کی سیاسی سماجی نفسیات کو سمجھنے والے دانشوروں کا خیال ہے امریکی صدر جو اس وقت ایک طرف اپنے ملک میں ایران جنگ کے باعث بڑے سیاسی دباؤ میں ہیں اور دنیا بھر میں مہنگائی کے ذمہ دار سمجھے جا رہے ہیں انہوں نے ابراہم ایکارڈ پر مسلم ممالک کورضامند کرنے کے لیے انتہائی غلط وقت چنا ہے، بہتر ہوتا وہ ایران سے تمام معاملات خصوصاً یورینیم کے خاتمے اور ایٹمی صلاحیت سے مکمل دوری جیسے معاملات طے کرنے کے بعد اس جانب قدم بڑھاتے تو ان کی بات میں وزن ہو سکتا تھا اور وہ ممالک جو اس وقت امریکہ کی ایران سے ڈیل کروانے کی کوشش کر رہے ہیں، امریکہ کی فتح کے تاثر کے بعد معاہدے پر بات کرنے کے لیے تیار کیے جا سکتے تھے تاہم موجودہ صورت حال میں صدر ٹرمپ کا یہ اقدام کسی کامیابی سے ہمکنار ہوتا نظر نہیں آتا

مزید پڑھیں