Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہمصنوعی ذہانت کی صنعت کا امریکی سیاست میں بڑا کردار—انتخابی مہمات پر...

ٹرینڈنگ

مصنوعی ذہانت کی صنعت کا امریکی سیاست میں بڑا کردار—انتخابی مہمات پر کروڑوں ڈالر خرچ ہونے کا انکشاف

مصنوعی ذہانت کی صنعت کا امریکی سیاست میں بڑا کردار—انتخابی مہمات پر کروڑوں ڈالر خرچ ہونے کا انکشاف
واشنگٹن: امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت کی صنعت سے جڑی کمپنیوں اور ان کے اتحادی سیاسی نیٹ ورکس نے حالیہ امریکی کانگریسی انتخابات میں خاموش مگر بھاری مالی مداخلت کی ہے، جس کے تحت مختلف حلقوں میں کروڑوں ڈالر کے اشتہارات چلائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ایک نمایاں نیٹ ورک، جس کا تعلق اے آئی چیٹ بوٹ بنانے والی کمپنی Anthropic سے بتایا جاتا ہے، نے پبلک فرسٹ ایکشن نامی سیاسی گروپ کے ذریعے شمالی کیرولائنا کے ایک حلقے میں تقریباً 1.6 ملین ڈالر کے اشتہارات چلائے—یہ اس انتخابی دوڑ میں کسی بھی بیرونی گروپ کی سب سے بڑی اشتہاری مہم تھی۔
اسی نیٹ ورک پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے مختلف ریاستوں میں ایک دوسرے سے متضاد سیاسی پیغامات والے اشتہارات چلائے، جن میں کہیں امیگریشن اور امیگریشن انفورسمنٹ ادارے U.S. Immigration and Customs Enforcement پر تنقید کی گئی، جبکہ کہیں سخت امیگریشن پالیسی کے حق میں مہم چلائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق یہ تمام سرگرمیاں Public First Action جیسے سپر پیک نیٹ ورکس کے ذریعے کی گئیں، جو بظاہر مصنوعی ذہانت کی صنعت کے مختلف دھڑوں کے مفادات کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
انتخابی حلقے میں شکست کھانے والی امیدوار نے دعویٰ کیا کہ ان بھاری اخراجات نے آخری مراحل میں انتخابی نتائج پر اثر ڈالا، تاہم ماہرین کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ان اشتہارات کا فیصلہ کن اثر کتنا تھا، کیونکہ مقابلہ انتہائی قریبی تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ مصنوعی ذہانت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی صنعت اب امریکی سیاست میں بھی خاموش مگر طاقتور اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے—تاہم اس کے مقاصد اور حکمتِ عملی اب بھی بڑی حد تک غیر واضح اور متضاد دکھائی دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں