مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کشیدگی کے بعد عالمی منڈیوں میں ہلچل: ایلومینیم کی قیمتیں چار سال کی بلند ترین سطح پر
خبر: مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال اور امریکہ و ایران کے درمیان فوجی حملوں کے تبادلے کے بعد عالمی سپلائی چین شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں ایلومینیم کی عالمی قیمتیں گزشتہ چار برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ منڈی کے تاجروں کے مطابق بین الاقوامی سطح پر ایلومینیم کی قیمتوں کا تعین کرنے والی لندن دھات منڈی میں ایلومینیم کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں اس کی قیمت چار ہزار ڈالر کے قریب پہنچ کر مارچ دو ہزار بائیس کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر جا پہنچی۔ اس سے قبل بھی قیمتیں اسی سطح کے قریب دیکھی گئی تھیں، جو اب دوبارہ برقرار ہیں۔ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں عالمی ایلومینیم پیداوار کا تقریباً نو فیصد حصہ موجود ہے، اور حالیہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے برآمدات کو متاثر کیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف ایلومینیم کی ترسیل کو محدود کیا ہے بلکہ ان خام مال کی فراہمی کو بھی متاثر کیا ہے جو گاڑیاں، ہوائی جہاز، مشروبات کے ڈبے اور تعمیراتی سامان بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے کی صورتحال مزید بگڑتی ہے تو صنعتی پیداوار اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں کا دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑنے کا خدشہ ہے


