مخالف ماحول میں بڑی کامیابی، مسلم اسکول کے لیے 2.51 ملین ڈالر کی منظوری، طاہر اشرفی کو خصوصی شیلڈ سے نواز دیا گیا
امریکہ کی ریاست ٹیکساس میں جہاں ایک طرف بعض ریپبلکن حلقوں کی جانب سے مسلمانوں اور شریعت کے خلاف سخت بیانیہ سامنے آ رہا ہے، وہیں دوسری جانب ایک مسلم تعلیمی ادارے کے لیے کروڑوں ڈالر کے اسکول واؤچرز کی منظوری ایک بڑی اور غیر معمولی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ بیماؤنٹ ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے سماجی و مذہبی رہنما طاہر اشرفی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران ٹیکساس کے گورنر کے ساتھ مسلسل رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے مسلم اسکولوں کے حق میں مؤقف پیش کیا، جس کے نتیجے میں پہلی مرتبہ ایک مسلم اسکول کو تقریباً 2.51 ملین ڈالر کے واؤچرز کی منظوری ملی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹیکساس میں “اینٹی شریاعہ کاکس” سے وابستہ درجنوں ریپبلکن اراکین کی جانب سے یہ دعوے کیے جا رہے تھے کہ ریاست میں مسلمان اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا رہے ہیں، جبکہ حالیہ دنوں میں بعض تقاریر اور سیاسی بیانات میں ہندو اور مسلم کمیونٹیز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اسی ماحول میں ڈلس میں منعقد ہونے والی ایک “مسلم اونلی” عید ملن تقریب کو بھی متنازع بنا کر روک دیا گیا تھا۔ ایسے حساس اور دباؤ والے ماحول میں ایک مسلم تعلیمی ادارے کے لیے سرکاری سطح پر اتنی بڑی مالی منظوری کو کمیونٹی ایک اہم کامیابی اور مثبت اشارہ قرار دے رہی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی نظام میں قانونی اور آئینی دائرے کے اندر رہتے ہوئے مثبت انداز میں کام کیا جائے تو راستے نکلتے ہیں اور ادارے تعاون بھی کرتے ہیں۔ طاہر اشرفی نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اللہ کی رضا کے لیے کام کیا اور کسی صلے یا اعزاز کی توقع نہیں رکھی، تاہم اسکول انتظامیہ نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں خصوصی شیلڈ پیش کی، جسے تقریب کے شرکاء نے بھرپور انداز میں سراہا۔ تقریب میں موجود افراد کا کہنا تھا کہ مسلم کمیونٹی کے لیے تعلیم کے میدان میں یہ پیش رفت نہ صرف ایک مالی کامیابی ہے بلکہ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ مسلسل محنت، مکالمے اور مثبت حکمت عملی سے منفی پروپیگنڈے کا جواب دیا جا سکتا ہے


