لندن سے سفیر کی واپسی، کاروباری ڈیلیں بنانے کا الزاماسحاق ڈار کو ڈیل کا حصہ نہ بنانے کا انجام، کیریئر ختم کردیا
لندن سے سفیر کی واپسی، کاروباری ڈیلیں بنانے کا الزام
اسحاق ڈار کو ڈیل کا حصہ نہ بنانے کا انجام، کیریئر ختم کردیا
وزارت خارجہ کے انتہائی قابل آفسر، حکومت پاکستان اور مقتدرہ کے مشترکہ فیورٹ برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل کے اچانک پاکستان واپس تبادلے پر وزارت اور صحافتی حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ حکومتی حلقوں میں اسے معمول کا تبادلہ قرار دیا جا رہا ہے مگر بعض حلقے ہائی کمشنر کی واپسی کے تانے بانے گزشتہ ماہ ایک معروف پاکستانی کورئیر گروپ کے ساتھ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے معاہدے سے جوڑ رہے ہیں۔
پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کی سہولت اور اخراجات میں بچت کے لئے لندن ہائی کمیشن اور قونصل خانوں نے جیریز ویزا سروسز کے ساتھ بعض قونصلر سروسز جن میں پاسپورٹ پروسیسنگ، ویزا سروسز، نائکوپ ایپلیکیشن، فنگر پرنٹس اور تصدیق کیلئے ڈاکومنٹس کی تکمیل و ترسیل جیسی سروسز فراہم کرنے کا کنٹریکٹ کیا ہے، جس کے تحت جیریز برطانیہ کے مختلف شہروں میں فیسیلیٹیشن سینٹرز قائم کرے گا اور ہوم ڈیلیوری کا بھی بندوبست کرے گا جس کے عوض مخصوص فیس کنزیومرز سے چارج کی جائے گی۔
جیریز گروپ پاکستان میں ٹریول، ایوی ایشن، لاجسٹکس اور کوریئر سروسز فراہم کرنے والا معروف ادارہ ہے جس کے کاروباری مفادات مڈل ایسٹ سے یورپ تک پھیلے ہیں۔ اس معاہدے کے بعد کچھ لوگوں نے اس تمام پراسس کی شفافیت، لوگوں کے ڈیٹا کی حفاظت اور بھاری فیسوں پر سوال اٹھائے، تو پاکستان ہائی کمیشن کی طرف سے وضاحت آ گئی کہ تمام کام وزارت خارجہ کی اپروول اور پپرا رولز کے مطابق عوام کی سہولت کیلئے کیا گیا ہے۔
تاہم برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے تحفظات کے پیش نظر نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے معاہدے کو ریویو کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ اسحاق ڈار جو مبینہ طور پر اپنے کسی قریبی شخص کو یہ کنٹریکٹ دلوانا چاہتے تھے، ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل کی طرف سے کنٹریکٹ دیے جانے پر شدید برہم ہوئے اور انہیں مدت پوری ہونے سے چند ماہ قبل اسلام آباد واپس بلا لیا۔
ڈاکٹر محمد فیصل کا نام ان کی قبل از وقت واپسی سے پہلے اگلے متوقع سیکریٹری خارجہ کے طور پر بھی لیا جا رہا تھا۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جیریز سروسز نے فیسوں اور بعض شقوں میں ردوبدل پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم معاہدہ ختم کرنے کی صورت میں لندن کی عدالت جانے کا عندیہ دیا ہے۔


