Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہلانچ سے صرف 30 سیکنڈ پہلے ڈرامائی ناکامی: ایلون مسک کا دیو...

ٹرینڈنگ

لانچ سے صرف 30 سیکنڈ پہلے ڈرامائی ناکامی: ایلون مسک کا دیو ہیکل “اسٹارشپ” پھر رک گیا

لانچ سے صرف 30 سیکنڈ پہلے ڈرامائی ناکامی: ایلون مسک کا دیو ہیکل “اسٹارشپ” پھر رک گیا
دنیا کے سب سے طاقتور اور دیوقامت راکٹ پروگرامز میں شمار ہونے والے اسپیس ایکس کے نئے “اسٹارشپ” راکٹ کو اُس وقت بڑا دھچکا لگا جب لانچ سے محض تیس سیکنڈ پہلے اچانک پیدا ہونے والے تکنیکی مسائل نے پوری پرواز روک دی۔
امریکی ریاست ٹیکساس میں میکسیکو سرحد کے قریب قائم “اسٹاربیس” سے 407 فٹ بلند یہ راکٹ ایک تاریخی آزمائشی پرواز کے لیے تیار کھڑا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ یہ خلائی جہاز زمین کے گرد نصف دنیا تک سفر کرے گا اور مستقبل کے چاند و مریخ مشنز کی راہ ہموار کرے گا۔
مگر جیسے ہی الٹی گنتی آخری لمحوں میں داخل ہوئی، لانچ پیڈ پر مسائل کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کمپنی کے مطابق نئے لانچ سسٹم میں تکنیکی خرابی پیدا ہوئی اور وقت ختم ہونے کے باعث مشن روکنا پڑا۔
بعد میں ایلون مسک نے بتایا کہ لانچ ٹاور کے بازو کو تھامنے والا “ہائیڈرولک پن” اپنی جگہ سے واپس نہیں ہٹا، جس کے باعث حفاظتی نظام نے خودکار طور پر لانچ روک دیا۔ مسک کے مطابق اگر خرابی جلد درست ہو گئی تو اگلی کوشش جمعے کو کی جا سکتی ہے۔
یہ ناکامی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب صرف ایک روز قبل مسک نے اعلان کیا تھا کہ اسپیس ایکس کو عوامی شیئر مارکیٹ میں لانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے اس لانچ پر دنیا بھر کے سرمایہ کاروں، خلائی ماہرین اور ٹیکنالوجی حلقوں کی غیرمعمولی نظریں جمی ہوئی تھیں۔
تجزیہ: ناکامی یا خلائی دوڑ کی “نئی حقیقت”؟
اگرچہ بظاہر یہ ایک تکنیکی خرابی تھی، لیکن حقیقت میں یہ جدید خلائی دوڑ کی اُس پیچیدہ حقیقت کو ظاہر کرتی ہے جہاں کامیابی اور ناکامی کے درمیان صرف چند سیکنڈ کا فرق رہ گیا ہے۔
اسپیس ایکس نے گزشتہ چند برسوں میں بار بار یہ ثابت کیا ہے کہ وہ روایتی خلائی اداروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے تجربات کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنی کھلے عام ناکام تجربات کو بھی “سیکھنے کے عمل” کا حصہ قرار دیتی ہے۔
مگر اس بار صورتحال کچھ مختلف ہے۔ یہ صرف ایک راکٹ ٹیسٹ نہیں بلکہ مستقبل کی عالمی خلائی معیشت، مریخ مشن، چاند پر انسانی واپسی، اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے جڑا ہوا منصوبہ ہے۔
“اسٹارشپ” دراصل وہی راکٹ ہے جس پر ناسا مستقبل میں اپنے خلانوردوں کو چاند پر بھیجنے کا انحصار کر رہا ہے۔ یہی نظام مستقبل میں مریخ پر انسانی کالونیوں کے مسک کے خواب کی بنیاد بھی سمجھا جاتا ہے۔
ایک اور بڑا سوال: کیا مسک بہت تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں؟
کئی ماہرین اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا ایلون مسک کی “تیزی سے تجربات” والی حکمتِ عملی اتنے بڑے اور حساس نظام کے لیے خطرناک تو نہیں؟
کیونکہ اسٹارشپ صرف ایک راکٹ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے سب سے بڑے خلائی ٹرانسپورٹ سسٹمز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس کے ہر تجربے پر نہ صرف اربوں ڈالر بلکہ امریکہ کی خلائی برتری بھی جڑی ہوئی ہے۔
اس کے باوجود، خلائی صنعت کے اندر ایک دوسرا مؤقف بھی موجود ہے:
اگر مسلسل تجربات، ناکامیاں اور فوری اصلاحات نہ ہوں تو مریخ تک پہنچنے کا خواب شاید کبھی حقیقت نہ بن سکے۔
اسی لیے ٹیکساس کے ساحل پر رکی ہوئی یہ پرواز صرف ایک تکنیکی تعطل نہیں، بلکہ انسان کی اُس بےچین خواہش کی علامت بھی ہے جو زمین سے آگے نئی دنیاوں تک پہنچنا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں