Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہفورٹ بینڈ کاؤنٹی میں ٹریژر کی دوڑ آخری مرحلے میں: ڈیموکریٹ سارہ...

ٹرینڈنگ

فورٹ بینڈ کاؤنٹی میں ٹریژر کی دوڑ آخری مرحلے میں: ڈیموکریٹ سارہ خان کے حمایتی حلقے میں ووٹرز جاگتے میں سوتے نظر آئے

فورٹ بینڈ کاؤنٹی میں ٹریژر کی دوڑ آخری مرحلے میں: ڈیموکریٹ سارہ خان کے حمایتی حلقے میں ووٹرز جاگتے میں سوتے نظر آئے فورٹ بینڈ کاؤنٹی ہیوسٹن میں ڈیموکریٹ پارٹی کی ٹریژر نامزدگی کے لیے جاری انتخابی مقابلہ اب آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں رن آف میں دو امیدوار آمنے سامنے ہیں۔ ان میں ایک امیدوار سارہ خان ہیں، جو ابتدائی مرحلے میں نمایاں ووٹ حاصل کرنے کے بعد رن آف تک پہنچی ہیں۔ ان کے مقابلے میں ڈیموکریٹ امیدوار جان اے تھامسن ہیں، جو ماضی میں مقامی چیمبر آف کامرس کی قیادت کر چکے ہیں اور طویل عرصے سے مقامی سیاست میں فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں، اور جنہوں نے رن آف مقابلے سے پہلے پرائمری میں سارہ خان کے مقابلے میں ساڑھے تین فیصد زیادہ ووٹ حاصل کیے تھے۔ یہ رن آف اس وقت ہو رہا ہے جب ابتدائی پرائمری میں متعدد امیدوار میدان میں تھے، مگر ووٹ تقسیم ہونے کے بعد مقابلہ دو امیدواروں تک محدود رہ گیا ہے، جبکہ حتمی فیصلہ 28 تاریخ کے قریب متوقع ہے۔ فورٹ بینڈ کاؤنٹی کو ایک تیزی سے بدلتی ہوئی آبادی والا خطہ سمجھا جاتا ہے، جہاں مختلف کمیونٹیز کا سیاسی اثر مسلسل بڑھ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہاں ایشیائی نژاد ووٹرز نسبتاً کم مگر فعال ہیں، ہسپانوی نژاد ووٹرز ایک بڑا اور مؤثر بلاک ہیں، جبکہ افریقی نژاد ووٹرز بھی انتخابی نتائج پر واضح اثر رکھتے ہیں۔ بظاہر کاؤنٹی میں امریکن پاکستانی اور انڈین امریکن کے مقابلے میں اکثریت میں بتائے جاتے ہیں، تاہم سرکاری ریکارڈ میں پاکستانی نژاد دو سے تین فیصد اور انڈین امریکن آٹھ فیصد سے زائد ظاہر کیے جاتے ہیں، جبکہ بلیک امریکن کی آبادی بیس فیصد سے زائد بتائی جاتی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران سابق چیمبر قیادت رکھنے والے امیدوار جان اے تھامسن نے نسبتاً زیادہ مالی وسائل اکٹھے کیے، جبکہ سارہ خان محدود مالی وسائل ہی جمع کر سکیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مقامی انتخابات میں فنڈنگ اہم کردار ادا کرتی ہے، مگر اصل فیصلہ اکثر ووٹر ٹرن آؤٹ اور زمینی رابطہ مہم سے ہوتا ہے۔ ابتدائی دنوں میں ووٹنگ کی شرح کم رہی، جس پر مقامی مبصرین نے کہا کہ رن آف انتخابات میں عام طور پر ٹرن آؤٹ کم ہوتا ہے، چاہے کمیونٹی سرگرمیاں زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔ امریکن پاکستانی کمیونٹی کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ شوگر لینڈ کی مسجد مریم میں ووٹنگ سینٹر قائم کیا گیا تھا جہاں پہلے روز انتہائی مایوس کن ووٹنگ رجحان دیکھنے میں آیا، جبکہ یہی صورت حال دوسرے روز بھی دیکھنے کو ملی۔ ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ سارہ خان کے مخالف امیدوار کے حمایتی حلقوں میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اطلاعات ہیں۔ مریم مسجد کے انتخابی سینٹر کا دورہ کرنے والے متعدد افراد کا دعویٰ ہے کہ مسجد نمازیوں سے بھری پڑی تھی مگر ووٹنگ سینٹر ویران رہا، جبکہ اس موقع پر بعض نمازیوں سے ووٹ ڈالنے کی استدعا کی گئی تو انہوں نے شناختی کارڈ گھر بھول آنے کا عذر پیش کیا یا درخواست کو مسکرا کر نظر انداز کر دیا۔ کچھ حلقوں کے مطابق مذہبی اجتماعات اور کمیونٹی سرگرمیوں میں بڑی تعداد موجود ہونے کے باوجود ووٹ ڈالنے کا رجحان نسبتاً کم رہا، جس نے انتخابی نتائج کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔ موجودہ ٹریژر مائیکل آر ہیرس ہیں، جو ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اور پہلے بھی دو بار یہ عہدہ جیت چکے ہیں۔ اس بار بھی ان کی دوبارہ انتخابی مہم جاری ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ڈیموکریٹ امیدوار کامیاب ہوتا ہے تو بھی عام انتخابات میں اسے ایک مضبوط اور تجربہ کار ریپبلکن مشین کا سامنا ہوگا۔ اب تمام نظریں 28 تاریخ کے رن آف پر ہیں، جہاں فیصلہ ہوگا کہ ڈیموکریٹ امیدوار کون بنتا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اصل مقابلہ ابھی باقی ہے کیونکہ عام انتخابات میں طاقت کا توازن مزید سخت مقابلے کی طرف جا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں