Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںغزہ میں جنگ کا نیا المیہ: خوف، بھوک اور بے گھری نے...

ٹرینڈنگ

غزہ میں جنگ کا نیا المیہ: خوف، بھوک اور بے گھری نے کمسن بچیوں کو شادی پر مجبور کردیا

غزہ میں جاری جنگ اور مسلسل بے گھری نے ایک نئے انسانی المیے کو جنم دے دیا ہے، جہاں بڑھتی غربت، عدم تحفظ اور شدید مشکلات کے باعث کم عمر بچیوں کی شادیاں بڑھنے لگی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ اپنے گھروں، روزگار اور عزیزوں سے محروم ہونے کے بعد وہ ایسے فیصلے کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں جن کا تصور بھی پہلے ممکن نہیں تھا۔ عارضی کیمپوں میں رہنے والی ایک ماں نے بتایا کہ شوہر اور بیٹے کی ہلاکت کے بعد وہ اپنی بیٹیوں کی حفاظت کے خوف میں مبتلا ہو گئی تھی، جس کے باعث اس نے 13 اور 14 سالہ بیٹیوں کی شادی کر دی، لیکن اب اسے اپنے فیصلے پر شدید پشیمانی ہے۔ ماہرین کے مطابق جنگ، نقل مکانی اور معاشی تباہی نے خاندانوں پر غیر معمولی دباؤ ڈال دیا ہے۔ بہت سے والدین اپنی بیٹیوں کی شادی کو تحفظ اور معاشی سہارا حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں، حالانکہ اس کے نتیجے میں بچیوں کی تعلیم، صحت اور مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ غزہ میں یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ جنگ کے اثرات صرف جانی نقصان تک محدود نہیں رہتے بلکہ وہ معاشرے کے سب سے کمزور طبقے، یعنی بچوں، کے مستقبل کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق غزہ کی تباہ حال بستیوں اور امداد پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد کی زندگی میں اس وقت سب سے بڑا سوال صرف زندہ رہنے کا ہے، اور یہی بے بسی بعض خاندانوں کو ایسے فیصلوں کی طرف دھکیل رہی ہے جو آنے والے برسوں تک ان کی زندگیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں

مزید پڑھیں