Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہعیدالاضحیٰ پر جنوبی لبنان خالی کرنے کا اسرائیلی حکم، حزب اللہ کے...

ٹرینڈنگ

عیدالاضحیٰ پر جنوبی لبنان خالی کرنے کا اسرائیلی حکم، حزب اللہ کے خلاف “انتہائی طاقت” استعمال کرنے کی دھمکی

عیدالاضحیٰ پر جنوبی لبنان خالی کرنے کا اسرائیلی حکم، حزب اللہ کے خلاف “انتہائی طاقت” استعمال کرنے کی دھمکی

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی آگ ایک بار پھر بھڑکتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے رہائشیوں کو فوری طور پر علاقے چھوڑنے کا حکم دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف “انتہائی طاقت” کے ساتھ کارروائی کرے گی۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے یہ سخت انتباہ عیدالاضحیٰ کے دن جاری کیا گیا، جس نے پہلے ہی جنگ سے تباہ حال لبنان میں خوف و ہراس کی نئی لہر دوڑا دی۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا جب ایک روز قبل اسرائیلی فوج اور Hezbollah کے جنگجوؤں کے درمیان جنوبی لبنان میں دریائے لیتانی کے قریب شدید جھڑپیں ہوئیں، اور اسرائیلی افواج مزید شمال کی جانب بڑھتی دکھائی دیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج دریائے لیتانی عبور کر کے اہم جنوبی شہر نبطیہ کے قریب پہنچ چکی ہے، جبکہ زاوتار الشرقیہ کے علاقے میں بھی شدید لڑائی جاری ہے۔ جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد 17 اپریل سے یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے عوام کو بڑے پیمانے پر انخلا کا حکم دیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن میں لبنانی اور اسرائیلی وفود کے درمیان اہم مذاکرات متوقع ہیں، تاہم زمینی صورتحال اس کے برعکس مزید خطرناک رخ اختیار کرتی جا رہی ہے۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان یہ جنگ 2 مارچ کو اس وقت شروع ہوئی تھی جب حزب اللہ نے ایران سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے کیے۔ اس کے بعد سے لبنان میں تباہی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے۔ ایک ملین سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیلی حملوں میں 3,200 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔
اگرچہ جنگ بندی کے بعد اسرائیل نے بیروت یا دارالحکومت کے قریبی علاقوں کو نشانہ نہیں بنایا، لیکن جنوبی لبنان میں بڑھتی ہوئی فوجی پیش قدمی نے اس خدشے کو جنم دیا ہے کہ خطہ ایک اور وسیع جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے۔

مزید پڑھیں