سپریم کورٹ کے 12 مئی کے حکم پر بڑا آئینی تنازعہ: این سی سی آئی اے نے فیصلہ واپس لینے کی درخواست دائر کر دی
خبر: سپریم کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزا معطلی کے کیس سے متعلق 12 مئی کے حکم نامے پر قانونی تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اس حکم کو واپس لینے کے لیے عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق 12 مئی کو سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں یہ قرار دیا تھا کہ ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت سزا معطلی اور اپیلوں کے معاملات کو قانون کے مطابق سنا جائے اور فریقین کو مکمل طور پر سنے بغیر کوئی فیصلہ نہ دیا جائے۔ اس حکم کے ذریعے ہائیکورٹ کو اس بات کی یاد دہانی کرائی گئی تھی کہ تمام فریقین کے مؤقف کے بعد ہی حتمی فیصلہ کیا جائے۔ اب این سی سی آئی اے نے اس حکم پر اعتراض کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ ہائیکورٹ کے زیرِ التوا مقدمات کے طریقۂ کار میں براہِ راست رہنمائی کے مترادف ہے، جو عدالتی دائرہ اختیار کے حوالے سے سوالات پیدا کرتا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ اعلیٰ عدالتیں نچلی عدالتوں میں زیرِ سماعت مقدمات میں اس انداز سے مداخلت نہیں کر سکتیں۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عدالتی اصولوں کے مطابق تمام فریقین کو برابر سنا جانا چاہیے اور سزا معطلی جیسے معاملات میں اصل فیصلہ ہائیکورٹ کو ہی کرنا چاہیے۔ یہ بھی مؤقف اپنایا گیا ہے کہ جب کیس میں دوسرے فریق کو نوٹس جاری ہو چکا ہو تو اس مرحلے پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ اس پیش رفت کے بعد معاملہ ایک نئے آئینی اور قانونی موڑ میں داخل ہو گیا ہے اور آئندہ سماعت کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے


