سورج کی روشنی اور جراثیمی انجینئرنگ سے ایندھن کی نئی دنیا، سائنس دانوں کی اہم پیش رفت
سورج کی روشنی اور جراثیمی انجینئرنگ سے ایندھن کی نئی دنیا، سائنس دانوں کی اہم پیش رفت
سائنس دانوں نے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایسے خردبینی جاندار تیار کیے ہیں جو مستقبل میں گاڑیوں کے لیے ماحول دوست ایندھن پیدا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق مخصوص جراثیم، جنہیں سیانو بیکٹیریا کہا جاتا ہے، جینیاتی تبدیلی کے بعد سورج کی روشنی کو استعمال کرتے ہوئے قدرتی عمل کے ذریعے چربی جیسے کیمیائی اجزا بڑی مقدار میں خارج کرتے ہیں۔ یہ اجزا بعد میں بایو ایندھن میں تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مادے، جنہیں فیٹی ایسڈ کہا جاتا ہے، توانائی کا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں اور انہیں صنعتی طریقوں سے ایندھن میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ نئی تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ یہ جراثیم نسبتاً معتدل درجہ حرارت میں بھی زیادہ مؤثر طریقے سے یہ عمل انجام دیتے ہیں، جو ان کے صنعتی استعمال کے لیے اہم پیش رفت ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق اس ٹیکنالوجی کی مدد سے مستقبل میں تیل اور پٹرول جیسے روایتی ذرائع پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے، اور سورج کی روشنی اور حیاتیاتی نظام کے ذریعے بڑی مقدار میں صاف توانائی حاصل کرنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاہم ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ تحقیق ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اسے بڑے پیمانے پر استعمال کے قابل بنانے کے لیے مزید تجربات اور وقت درکار ہوگا۔


