Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںسعودی عرب کےبے دریغ خرچ کا دور ختم ،وژن 2030 پر سوالات...

ٹرینڈنگ

سعودی عرب کےبے دریغ خرچ کا دور ختم ،وژن 2030 پر سوالات اٹھنے لگے

سعودی عرب کی بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں اور میگا پروجیکٹس پر مبنی اقتصادی حکمتِ عملی اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں مبصرین کے مطابق تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے شروع کیے گئے وژن 2030 کے اہداف اور ان پر ہونے والے اخراجات پر سوالات بڑھ رہے ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے (BBC) کی رپورٹ کے مطابق ایک دہائی قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے “وژن 2030” کے تحت ملک کی معیشت اور معاشرت کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس منصوبے میں غیر معمولی اور جدید ترین میگا پروجیکٹس شامل تھے، جنہیں مستقبل کی ٹیکنالوجی اور سیاحت کے مراکز کے طور پر پیش کیا گیا۔ ان منصوبوں کی مالی بنیاد سعودی عرب کے تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) پر رکھی گئی تھی، جس کا بڑا انحصار تیل کی آمدن پر ہے۔ ابتدائی طور پر ان منصوبوں کو عالمی سطح پر بہت زیادہ توجہ ملی، تاہم اب ان کے عملی نفاذ، لاگت اور طویل مدتی پائیداری پر بحث تیز ہو گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ کئی منصوبے یا تو سست روی کا شکار ہیں یا ان کی سمت میں تبدیلی آ رہی ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ سعودی عرب کی “بے تحاشا اخراجاتی پالیسی” اپنے اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ کئی منصوبے یا تو سست روی کا شکار ہیں یا ان کی سمت میں تبدیلی آ رہی ہے، جس سے یہ تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ سعودی عرب کی “بے تحاشا اخراجاتی پالیسی” اپنے اختتامی مرحلے کے قریب پہنچ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ وژن 2030 نے سعودی معیشت میں تنوع پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن عالمی تیل منڈیوں کی غیر یقینی صورتحال اور بڑے مالی دباؤ نے ان منصوبوں کے مستقبل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے

مزید پڑھیں