*سعودی عرب میں فتویٰ یا ریاستی پالیسی؟ ابراہیمی منصوبے پر علماء کا سخت مؤقف کئی نئے سوالات اٹھا گیا
*سعودی عرب میں فتویٰ یا ریاستی پالیسی؟ ابراہیمی منصوبے پر علماء کا سخت مؤقف کئی نئے سوالات اٹھا گیا
ے منسوب ایک فتویٰ ایک بار پھر زیرِ بحث آ گیا ہے جس میں “مذاہب کے اتحاد” اور “ابراہیمی ہاؤس” جیسے تصورات کو اسلامی عقائد سے متصادم قرار دیتے ہوئے ان کی حمایت سے منع کیا گیا ہے۔ اس مؤقف نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ مسلم دنیا میں بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا سعودی عرب کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ اب بھی اپنی روایتی فقہی پوزیشن پر قائم ہے یا ریاست کی نئی سفارتی حکمتِ عملی کے ساتھ کوئی نیا توازن تشکیل پا رہا ہے۔
فتویٰ میں واضح طور پر کہا گیا کہ اسلام آخری اور مکمل دین ہے، جبکہ سابقہ آسمانی مذاہب اپنی اصل صورت میں باقی نہیں رہے۔ اسی بنیاد پر مذاہب کے اتحاد، مشترکہ عبادت گاہوں یا قرآن، تورات اور انجیل کو ایک ہی مجموعے میں پیش کرنے جیسے تصورات کو ناقابل قبول قرار دیا گیا۔
یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات، ابراہام معاہدوں اور بین المذاہب مکالمے کے موضوعات مسلسل زیرِ بحث ہیں۔ پاکستان پہلے ہی یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اصل سوال صرف فتویٰ کا متن نہیں بلکہ سعودی عرب کے سیاسی نظام کی نوعیت ہے۔ سعودی عرب ایک مطلق العنان بادشاہت (Monarchy) ہے جہاں ریاستی ادارے، مذہبی ادارے اور اہم پالیسی مراکز تاریخی طور پر ایک دوسرے سے منسلک رہے ہیں۔ اس لیے یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ کوئی انتہائی حساس مذہبی یا سیاسی مؤقف ریاستی قیادت کی مکمل لاعلمی یا صریح مخالفت میں مستقل طور پر جاری رہ سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں علماء کی آراء ضرور موجود ہوتی ہیں، لیکن ریاستی پالیسی کا حتمی تعین شاہی قیادت کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں سعودی عرب نے مذہبی، سماجی اور سفارتی شعبوں میں ایسی اصلاحات نافذ کیں جنہیں ماضی میں تصور کرنا بھی مشکل تھا۔
دوسری جانب بعض مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی ریاست ایک ہی وقت میں دو پیغامات دینے کی کوشش کرتی ہے: ایک طرف عالمی سطح پر بین المذاہب مکالمے، اقتصادی تعاون اور سفارتی لچک کا اظہار، جبکہ دوسری جانب داخلی سطح پر روایتی مذہبی حساسیتوں کو مطمئن رکھنے کا اہتمام۔
اسی لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کسی ایک فتویٰ نے ابراہام معاہدوں یا مستقبل کی سفارتی سمت کے تمام دروازے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے ہیں۔ سعودی خارجہ پالیسی کے فیصلے بالآخر مذہبی فتاویٰ سے زیادہ ریاستی مفادات، علاقائی توازن اور بین الاقوامی حالات کے تحت طے ہوتے ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ علماء نے کیا کہا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ سعودی ریاست آنے والے برسوں میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔ سعودی عرب کی سیاسی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ وہاں مذہبی بیانیہ اہم ضرور ہے، مگر حتمی فیصلہ ہمیشہ ریاستی قیادت کے ہاتھ
رہتا ہے سعودی عرب جیسے نظام میں کسی عالم یا فتویٰ کمیٹی کا مکمل طور پر ریاستی پالیسی کے خلاف مستقل محاذ بنا لینا انتہائی غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔ البتہ بعض اوقات مذہبی اداروں کے بیانات داخلی مذہبی حلقوں کو مطمئن رکھنے، روایتی مؤقف برقرار رکھنے یا مخصوص فقہی حدود واضح کرنے کے لیے بھی سامنے آتے ہیں، جبکہ خارجہ پالیسی کے فیصلے الگ سطح پر کیے جاتے ہیں۔ اس لیے “فتویٰ آگیا، معاملہ ختم ہوگیا” اور “ریاست نے فیصلہ کر لیا” — یہ دونوں دعوے اکثر حقیقت سے زیادہ سادہ تصویر پیش کرتے ہیں


