سرخی: ایران نیوکلیئر معاہدہ مذاکرات میں تعطل، واشنگٹن اور تہران میں اختلافات شدت اختیار کر گئے
واشنگٹن / تہران: ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں میں نرمی کے معاملے پر امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں پیش رفت سست پڑ گئی ہے، جب کہ دونوں فریق ایک ممکنہ معاہدے کی شرائط پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ مذاکراتی ذرائع کے مطابق اتوار کے اختتام پر امید ظاہر کی گئی تھی کہ فریقین کے درمیان معاہدہ قریب ہے، تاہم پیر کو صورتحال تبدیل ہو گئی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ کسی “کمزور یا غیر مناسب معاہدے” کو قبول نہیں کریں گے۔ بات چیت کا بنیادی تنازع ایران کے جوہری پروگرام کی حدود اور ایران کے لیے مالی پابندیوں میں نرمی کے دائرہ کار پر ہے۔ ثالثوں کے مطابق اگرچہ دونوں جانب معاہدے تک پہنچنے کی ترغیب موجود ہے، لیکن موجودہ تعطل نے پیش رفت کو روک دیا ہے۔ یہ رپورٹ The Wall Street Journal کی جانب سے شائع کی گئی ہے، جس میں مذاکراتی عمل کو “رفتار کھوتا ہوا مگر مکمل طور پر ختم نہ ہونے والا” قرار دیا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ Donald Trump نے مؤقف اپنایا ہے کہ وہ کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کریں گے جو امریکہ کے مفاد میں نہ ہو، جبکہ ایران Iran کی جانب سے بھی اپنے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف برقرار ہے۔ مزید پیش رفت کا انحصار آئندہ مذاکراتی دور اور فریقین کی لچک پر ہوگا


