:“ریاستِ مدینہ کا ٹرینڈ یا سوشل میڈیا کا نیا ڈرامہ؟ حقیقت، افسانہ اور وائرل کلپس کی جنگ”
خبر:
سوشل میڈیا پر ایک بار پھر جذبات، سیاست اور ڈیجیٹل تخلیق کا ایسا ملا جلا طوفان دیکھا جا رہا ہے کہ حقیقت اور کہانی کے درمیان لکیر دھندلا گئی ہے۔ عمران خان کے حامیوں کی جانب سے اپنے لیڈر کی حمایت اور محبت اپنی جگہ ایک فطری سیاسی عمل سمجھا جا رہا ہے، مگر اسی کے ساتھ ساتھ بعض حلقوں میں ایسے دعوے اور کلپس بھی گردش کر رہے ہیں جن کی تصدیق نہ ہو سکی۔
حالیہ دنوں میں ایک وائرل ٹرینڈ میں معروف بھارتی اداکار امیتابھ بچن سے منسوب ایک پرانا کلپ دوبارہ ایڈٹ کر کے اس کے ساتھ ایسے بیانیے جوڑ دیے گئے جیسے وہ کسی مخصوص سیاسی صورتحال یا شخصیت کے بارے میں اظہارِ خیال کر رہے ہوں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اصل انٹرویو میں اس نوعیت کے کوئی الفاظ موجود نہیں تھے، مگر ڈیجیٹل ایڈیٹنگ نے اسے ایک “نیا بیان” بنا کر پیش کر دیا۔
دوسری جانب سیاسی ماحول میں پہلے ہی کشیدگی اور جذباتی وابستگی اتنی زیادہ ہے کہ ہر نئی ویڈیو، ہر کلپ اور ہر پوسٹ ایک مکمل بیانیہ بن کر پھیل جاتا ہے—چاہے اس کی بنیاد حقیقت ہو یا تخیل۔
تجزیہ کاروں کے مطابق مسئلہ صرف حمایت یا مخالفت کا نہیں رہا، بلکہ اب اصل چیلنج معلومات کی صحت اور تصدیق ہے۔ ایک طرف قید و بند، سیاسی مقدمات اور ملاقاتوں سے متعلق بحثیں جاری ہیں، تو دوسری طرف سوشل میڈیا پر “ایڈیٹ شدہ حقیقتیں” اصل موضوع کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی ہیں۔
طنزیہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ اگر یہی رفتار رہی تو جلد “ریاستِ مدینہ” جیسے سنجیدہ سیاسی و مذہبی تصورات بھی ٹرینڈنگ ہیش ٹیگز اور وائرل کلپس کی نذر ہو جائیں گے—جہاں حقیقت کم اور “وائرلٹی” زیادہ اہم ہو جائے گی۔
آخر میں سوال یہی رہ جاتا ہے:
کیا ہم واقعی بیانیہ بنا رہے ہیں، یا صرف بیانیوں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں


