روس کے شدید میزائل حملوں کے بعد یوکرین کا امریکا سے فوری دفاعی مدد کا مطالبہ، جنگ فیصلہ کن موڑ میں داخل ہونے کا خدشہ
روس کے شدید میزائل حملوں کے بعد یوکرین کا امریکا سے فوری دفاعی مدد کا مطالبہ، جنگ فیصلہ کن موڑ میں داخل ہونے کا خدشہ
کیف: یوکرین کے صدر Volodymyr Zelenskyy نے امریکا اور امریکی کانگریس سے فوری اپیل کی ہے کہ روسی بیلسٹک میزائل حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اضافی فضائی دفاعی نظام اور میزائل فراہم کیے جائیں۔
یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب روس نے یوکرین پر ایک بڑے اور منظم حملے میں درجنوں بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے صرف محدود تعداد کو ہی فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روکا جا سکا۔ یوکرینی فضائیہ کے مطابق حملے کی شدت گزشتہ کئی ماہ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ تھی۔
صدر زیلنسکی نے کہا ہے کہ روسی میزائل اس وقت میدانِ جنگ میں ماسکو کا “اہم ترین اسٹریٹجک فائدہ” ہیں، اور اگر انہیں مؤثر طریقے سے ناکارہ بنا دیا جائے تو روسی قیادت کو مذاکرات پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
یوکرینی حکام کے مطابق ملک کی دفاعی صلاحیت کا زیادہ تر انحصار امریکی ساختہ پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم پر ہے، جو بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم انٹرسیپٹر میزائلوں کی شدید کمی ایک مستقل مسئلہ بنی ہوئی ہے۔
واشنگٹن کی جانب سے یہ دفاعی تعاون یورپی مالی معاونت سے چلنے والے ایک پروگرام کے تحت فراہم کیا جا رہا ہے، لیکن عالمی سطح پر جاری دیگر تنازعات اور سیاسی اختلافات نے سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔
ادھر روسی صدر Vladimir Putin کی قیادت میں ماسکو کی فوجی کارروائیاں تیز ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ حملے جنگ کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر فضائی دفاعی صلاحیتوں میں فوری اضافہ نہ کیا گیا تو یوکرین میں سکیورٹی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، اور جنگ کے سفارتی حل کی کوششیں مزید مشکل ہو جائیں گی۔
اسی تناظر میں سابق امریکی صدر Donald Trump کا نام بھی اس بحث میں زیرِ گردش ہے، کیونکہ امریکی پالیسی میں ممکنہ تبدیلیاں یوکرین کو ملنے والی امداد پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہیں


