Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومپاکستانروات کی جلتی منڈی اور بےحس ریاست — جب عوام راکھ ہوتے...

ٹرینڈنگ

روات کی جلتی منڈی اور بےحس ریاست — جب عوام راکھ ہوتے رہیں اور اسکرینیں قصیدوں سے بھری ہوں

روات کی جلتی منڈی اور بےحس ریاست — جب عوام راکھ ہوتے رہیں اور اسکرینیں قصیدوں سے بھری ہوں راولپنڈی کے قریب روات میں ایک ہی رات میں سینکڑوں خاندانوں کی زندگیاں جل کر راکھ ہوگئیں۔ سبزی منڈی میں لگنے والی خوفناک آگ نے تین سو سے زائد دکانیں نگل لیں، کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کا سامان تباہ ہوگیا، مگر نہ بروقت فائر بریگیڈ پہنچی، نہ ریسکیو کا کوئی مؤثر نظام نظر آیا اور نہ ہی میڈیا نے اسے وہ اہمیت دی جس کی یہ تباہی مستحق تھی کہتے ہیں ہر دکان میں کسی کی زندگی بھر کی جمع پونجی تھی، کسی نے قرض لے کر کاروبار کھڑا کیا تھا، کسی نے بچوں کے مستقبل کے خواب اسی ٹھیلے اور اسی دکان سے وابستہ کر رکھے تھے، مگر آگ بجھنے سے پہلے امیدیں جل گئیں المیہ صرف آگ نہیں، ریاستی بےحسی بھی ہے۔ اگر یہی واقعہ اسلام آباد کے کسی پوش علاقے میں پیش آتا تو سارا میڈیا “بریکنگ نیوز” سے گونج اٹھتا، ٹاک شوز سج جاتے، تجزیے شروع ہوجاتے، مگر روات کے محنت کش شاید اس ملک کے “اہم شہری” نہیں۔ یہاں لوگ جل جائیں، بھوک سے مر جائیں، کاروبار تباہ ہوجائیں، خبر چند سطروں سے آگے نہیں بڑھتی ملک میں آج ہر طرف طاقت، سیاست اور شخصیات کے قصیدے سنائی دیتے ہیں، اسکرینیں کارناموں سے بھری ہیں، مگر عام آدمی کے لیے نہ تحفظ ہے، نہ انصاف، نہ روزگار کا تحفظ اور نہ ہی حادثات سے بچانے کا کوئی نظام۔ کراچی میں مال جل جائے تو ریسکیو ناکام، پنجاب میں منڈی جل جائے تو انتظامیہ غائب۔ سوال یہ ہے کہ ٹیکس لینے والی ریاست عوام کو بدلے میں دیتی کیا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں غصہ بڑھ رہا ہے، تشدد بڑھ رہا ہے، لوگ ٹوٹ رہے ہیں۔ کہیں بچوں کی لڑائی پر پورے خاندان قتل ہو رہے ہیں، کہیں بھوک اور بےروزگاری انسان کو درندہ بنا رہی ہے۔ عوام کا اعتماد ختم ہوچکا ہے کیونکہ انہیں ہر ادارہ، ہر دفتر اور ہر نظام صرف “پیسے کے بغیر بند دروازہ” دکھائی دیتا ہے روات کی جلی ہوئی منڈی صرف ایک حادثہ نہیں، یہ اس پورے نظام کی تصویر ہے جہاں غریب آدمی کی زندگی، محنت اور عزت کی قیمت شاید کسی سرکاری فائل سے بھی کم رہ گئی ہے

مزید پڑھیں