دنیا ایٹمی تصادم کے دہانے سے چند قدم پیچھے ہٹ گئی؟ تہران اور واشنگٹن کے درمیان خفیہ سمجھوتے کی اندرونی کہانی نے عالمی طاقتوں کو ہلا کر رکھ دیا
دنیا ایٹمی تصادم کے دہانے سے چند قدم پیچھے ہٹ گئی؟ تہران اور واشنگٹن کے درمیان خفیہ سمجھوتے کی اندرونی کہانی نے عالمی طاقتوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ مشرقِ وسطیٰ کئی روز سے شدید کشیدگی کی لپیٹ میں تھا۔ آسمانوں پر جنگی طیاروں کی گھن گرج، خلیج میں جنگی بیڑوں کی نقل و حرکت، تہران سے واشنگٹن تک سخت بیانات اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ یہ خوف بڑھ رہا تھا کہ کہیں دنیا ایک ایسے تصادم کی طرف نہ بڑھ جائے جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں۔ انہی حالات کے درمیان اب ایک اہم سفارتی پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جنہوں نے عالمی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکرات کار ایک ممکنہ ساٹھ روزہ عبوری مفاہمت پر غور کر رہے ہیں، جس کا مقصد فوری کشیدگی میں کمی لانا اور ایران کے جوہری پروگرام پر باقاعدہ مذاکرات کا راستہ ہموار کرنا بتایا جا رہا ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ پس پردہ رابطوں، خفیہ سفارتی ملاقاتوں اور علاقائی ثالثوں کی مسلسل کوششوں کے بعد ابتدائی نکات پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم حتمی فیصلے تاحال باقی ہیں۔ مبصرین کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری اور ایران کی باضابطہ رضامندی اس پورے عمل کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے، اور کسی بھی لمحے صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ کوئی مکمل امن معاہدہ نہیں بلکہ ایک نازک سفارتی وقفہ ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے دونوں ممالک براہِ راست تصادم سے بچتے ہوئے مذاکرات کی میز تک واپس آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اصل چیلنج ابھی باقی ہے، کیونکہ ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم، اقتصادی پابندیوں، علاقائی اثر و رسوخ اور اسرائیل سے متعلق حساس معاملات پر انتہائی پیچیدہ مذاکرات متوقع ہیں۔ عالمی مالیاتی منڈیاں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خلیجی کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جبکہ عالمی معیشت کو ممکنہ جنگی بحران کے خدشات کا سامنا رہا۔ ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے تو اس کے اثرات توانائی کی منڈیوں، عالمی تجارت اور سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل اور خلیجی ریاستوں میں بھی اس پیش رفت کے بعد غیر معمولی سفارتی سرگرمیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ بعض حلقے ایران کے ساتھ کسی بھی نرمی کو خطرناک سمجھتے ہیں، جبکہ دوسرے اسے خطے کو ممکنہ جنگ سے بچانے کے لیے ضروری سفارتی راستہ قرار دے رہے ہیں۔ واشنگٹن کے اندر بھی اس معاملے پر شدید سیاسی تقسیم موجود ہے، جہاں سخت گیر حلقے ایران کے ساتھ مفاہمت کو کمزوری قرار دے رہے ہیں جبکہ جنگ مخالف آوازیں خبردار کر رہی ہیں کہ اگر یہ موقع ضائع ہوا تو مشرقِ وسطیٰ ایک طویل اور تباہ کن بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔ مجموعی طور پر دنیا اس وقت ایک اہم سوال کے گرد گھوم رہی ہے: کیا تہران اور واشنگٹن واقعی تصادم سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، یا یہ خاموشی کسی بڑے بحران سے پہلے کا عارضی وقفہ ہے؟ آنے والے دن نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کی سمت پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔


