خیبر پختونخوا کی سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا ؟محمد نعمان مروت
جیسے ہی بجٹ سے متعلق امور زیر بحث آ رہے ہیں اور اس کا مرحلہ قریب آ رہا ہے خیبر پختونخوا کی سیاست ایک مرتبہ پھر غیر معمولی سرگرمیوں اور سیاسی جوڑ توڑ کی لپیٹ میں آ گئی ہے۔ صوبے کے سیاسی افق پر تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال نے نہ صرف حکومتی حلقوں بلکہ اپوزیشن جماعتوں کو بھی متحرک کر دیا ہے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی حکومت اور سیاسی مستقبل کے حوالے سے مختلف نوعیت کی قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں، جبکہ سیاسی مبصرین آنے والے دنوں کو صوبائی سیاست کے لیے فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی سیاسی پوزیشن کو کمزور کرنے اور ان کی حکومت کو دباؤ میں لانے کی مبینہ کوششوں کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد حکومتی کیمپ پوری طرح متحرک ہو چکا ہے۔ وزیراعلیٰ کے قریبی رفقاء اور سیاسی مشیروں نے اندرونی اور بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی پر کام شروع کر دیا ہے۔ حکومتی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ پارٹی کے اندر اتحاد برقرار رکھنے اور سیاسی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اہم اقدامات زیر غور ہیں۔ ادھر حالیہ دنوں میں اہم سیاسی شخصیات سے ملاقاتوں کے سلسلے نے بھی سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان پنجم کے ساتھ مختلف سطحوں پر ہونے والے روابط اور ملاقاتوں نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ ملاقاتیں مستقبل کی سیاسی صف بندیوں اور ممکنہ اتحادوں کا اشارہ ہو سکتی ہیں۔ دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور سے وابستہ سیاسی دھڑا بھی پس منظر میں خاموش نہیں بیٹھا۔ اطلاعات کے مطابق ان کے حامی ارکان اور سیاسی ساتھی مختلف سیاسی آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے بعد صوبائی سیاست میں بعض اہم پیش رفت سامنے آ سکتی ہیں جو موجودہ سیاسی توازن کو متاثر کر سکتی ہیں۔ قانونی محاذ پر بھی صورتحال دلچسپی اختیار کر چکی ہے۔ وفاقی آئینی عدالت میں شیر افضل مروت کی جانب سے دائر درخواست اور اس سے متعلق جاری قانونی کارروائی کو بھی سیاسی منظرنامے میں اہمیت دی جا رہی ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عدالتی فیصلے اور قانونی پیش رفتیں مستقبل کی سیاسی حکمت عملیوں پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہیں۔ صوبائی اسمبلی کے اندر بھی سیاسی صورتحال انتہائی حساس سمجھی جا رہی ہے۔ شمالی اور جنوبی اضلاع سے تعلق رکھنے والے متعدد ارکان اسمبلی کو سیاسی توازن میں اہم کردار کا حامل تصور کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر ان ارکان کی سیاسی وابستگیوں یا ترجیحات میں معمولی تبدیلی بھی آتی ہے تو اس کے اثرات پورے صوبے کی سیاسی سمت پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی قوتیں بھی اپنی اپنی حکمت عملی مرتب کر رہی ہیں۔ یہ جماعتیں بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے اور ممکنہ سیاسی مواقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گی۔ سیاسی ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں محاذ آرائی، الزام تراشی اور سیاسی کشیدگی کے بجائے مفاہمت اور افہام و تفہیم کی سیاست زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنی سیاسی ٹیم کو مزید منظم اور فعال بنائیں بلکہ پارٹی کے اندر موجود اختلافات اور بیرونی سیاسی دباؤ پر بھی گہری نظر رکھیں۔ مجموعی طور پر خیبر پختونخوا کی سیاست ایک نازک مگر دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ آنے والے دنوں میں سیاسی ملاقاتیں، عدالتی کارروائیاں، جماعتی فیصلے اور ممکنہ اتحاد صوبے کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی مبصرین، کارکنان اور عوام سب کی نظریں آنے والے چند ہفتوں پر مرکوز ہیں، جو خیبر پختونخوا کی سیاست میں نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں۔


