Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومUncategorizedخلیج کے اوپر بارود، میزوں کے نیچے سودے: آخر یہ کھیل کہاں...

ٹرینڈنگ

خلیج کے اوپر بارود، میزوں کے نیچے سودے: آخر یہ کھیل کہاں جا کر رکے گا؟

خلیج کے اوپر بارود، میزوں کے نیچے سودے: آخر یہ کھیل کہاں جا کر رکے گا؟ ایک دن خبر آتی ہے کہ جنگ رکنے والی ہے، اگلے دن میزائل چل جاتے ہیں۔ صبح کہا جاتا ہے کہ مذاکرات کامیاب ہو گئے، شام کو کسی اڈے پر حملے کی اطلاع آ جاتی ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ معاہدہ صرف چند لفظوں کے فاصلے پر ہے، پھر اچانک تیل کی قیمتیں بڑھنے لگتی ہیں، بحری راستوں پر خوف پھیل جاتا ہے اور دنیا کے بازار لرزنے لگتے ہیں۔ عام آدمی حیران ہے کہ آخر ہو کیا رہا ہے؟ کیا واقعی جنگ ختم ہو رہی ہے یا صرف جنگ کے وقفوں کو “امن” کہا جا رہا ہے؟ یورپ اور امریکہ کے کئی معروف تجزیہ نگار اس ساری صورتحال کو محض جنگ نہیں بلکہ ایک “حساب شدہ کشیدگی” قرار دے رہے ہیں۔ فرانسیسی دانشور ایمانوئیل ٹوڈ کے مطابق امریکہ اب دنیا کو اپنی عسکری طاقت سے زیادہ اپنے خوف کے ذریعے قابو میں رکھنا چاہتا ہے، کیونکہ عالمی طاقت کا توازن پہلے جیسا نہیں رہا۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ یہ مسلسل تناؤ صرف مشرقِ وسطیٰ کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے نئے نقشے کی جنگ ہے۔ امریکی دانشور جان میرشائمر مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ نے ایران کو مکمل طور پر دیوار سے لگانے کی کوشش کی تو پورا خطہ ایک ایسے دلدل میں تبدیل ہو سکتا ہے جہاں سے نکلنا ممکن نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق اصل مقصد صرف ایران کو روکنا نہیں بلکہ چین اور روس کو یہ پیغام دینا بھی ہے کہ عالمی راستوں اور توانائی کے سمندری دروازوں پر آخری اختیار اب بھی واشنگٹن رکھتا ہے۔ معروف امریکی صحافی سیمور ہرش اور کئی یورپی مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر ہر چند دن بعد “لیک” ہونے والی خبریں کیوں سامنے آتی ہیں؟ ان کے مطابق یہ صرف سفارت کاری نہیں بلکہ اعصاب پر جنگ ہے، جس کا مقصد غیر یقینی کو برقرار رکھنا اور خوف کو مستقل ماحول میں تبدیل کرنا ہے۔ برطانوی تجزیہ نگاروں کا ایک حلقہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ امریکہ مکمل جنگ نہیں چاہتا کیونکہ اس سے تیل، تجارت اور انتخابات سب متاثر ہوں گے، جبکہ ایران بھی مکمل تباہی نہیں چاہتا کیونکہ اندرونی معاشی دباؤ پہلے ہی شدید ہے۔ ماہرین کے مطابق اصل جنگ میدان میں کم اور ذہنوں میں زیادہ لڑی جا رہی ہے، جہاں عوام کو مسلسل خوف کے ماحول میں رکھا جاتا ہے تاکہ غیر معمولی حالات بھی معمول محسوس ہونے لگیں۔ شاید سب سے خطرناک بات یہی ہے، کیونکہ مکمل جنگ سے دنیا چیخ اٹھتی ہے، مگر مسلسل خوف سے معاشرے آہستہ آہستہ بےحس ہونے لگتے ہیں۔

مزید پڑھیں