جنگ جیتنے کا دعوی مگر منصوبہ،غائب، ایران پالیسی پر ٹرمپ شدید تنقید کی زد میں
جنگ جیتنے کا دعوی مگر منصوبہ،غائب، ایران پالیسی پر ٹرمپ شدید تنقید کی زد میں
ایران کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
کی حکمتِ عملی ایک بار پھر تنقید کی زد میں آ گئی ہے۔ ایک معروف تجزیہ نگار نے الزام عائد کیا ہے کہ صدر نے ایران کے خلاف کارروائی تو کر دی، لیکن اس کے بعد کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی واضح متبادل منصوبہ موجود نہیں تھا، جس کے باعث مطلوبہ سیاسی اور سفارتی نتائج حاصل نہ ہو سکے۔
تجزیے کے مطابق امریکی اور ایرانی سفارت کاروں نے پاکستان اور قطر کی معاونت سے ایک ابتدائی مفاہمتی دستاویز تیار کی ہے جس کے تحت موجودہ جنگ بندی کو ساٹھ روز تک برقرار رکھا جائے گا تاکہ مستقل امن معاہدے کے لیے مذاکرات جاری رہ سکیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر بالآخر مذاکرات اور جنگ بندی ہی واحد راستہ تھے تو پھر فوجی کارروائی کے مقاصد اور نتائج پر سنجیدہ سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی نہ تو ایرانی حکومت کے طرزِ عمل میں کوئی بڑی تبدیلی لا سکی اور نہ ہی خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ ناقدین کے مطابق اس صورتحال نے امریکی پالیسی کی مؤثریت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
تجزیہ نگار کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار استحکام کے لیے محض طاقت کے استعمال کے بجائے جامع سفارتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، جبکہ امریکا اور ایران دونوں کے لیے مذاکرات کا راستہ ہی کشیدگی کم کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔


