Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومبین الاقوامی خبریںجنگ، تیل کا بحران اور دنیا کی بے چینی… مگر جاپان کی...

ٹرینڈنگ

جنگ، تیل کا بحران اور دنیا کی بے چینی… مگر جاپان کی معیشت پھر بھی دوڑتی رہی” — برآمدات میں غیرمعمولی اضافہ، چِپس اور اے آئی نے ٹوکیو کو نئی طاقت دے دی۔

جنگ، تیل کا بحران اور دنیا کی بے چینی… مگر جاپان کی معیشت پھر بھی دوڑتی رہی” — برآمدات میں غیرمعمولی اضافہ، چِپس اور اے آئی نے ٹوکیو کو نئی طاقت دے دی۔
Japan نے ایسے وقت میں حیران کن معاشی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور تیل کی غیر یقینی صورتحال نے دنیا کی بڑی معیشتوں کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔
ٹوکیو میں جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں جاپانی برآمدات گزشتہ سال کے مقابلے میں 14.8 فیصد بڑھ گئیں، جو توقعات سے کہیں زیادہ تھیں۔ یہ مسلسل آٹھواں مہینہ ہے جب جاپان کی برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اور اس اضافے کے پیچھے سب سے بڑی طاقت سیمی کنڈکٹرز اور مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی عالمی مانگ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
خاص طور پر کمپیوٹر چِپس کی برآمدات میں تقریباً 42 فیصد اضافہ دیکھا گیا، کیونکہ دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے لیے درکار ڈیٹا سینٹرز، سرورز اور جدید انفراسٹرکچر کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایشیا کی ٹیکنالوجی صنعت اس نئی “اے آئی معیشت” سے غیرمعمولی منافع سمیٹ رہی ہے، اور جاپان بھی اس دوڑ میں خود کو مضبوط پوزیشن میں کھڑا کر رہا ہے۔
China کو جاپانی برآمدات میں 15.5 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ United States کو برآمدات 9.5 فیصد بڑھ گئیں۔ دوسری جانب چین سے درآمدات میں بھی 15 فیصد اور امریکہ سے درآمدات میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اپریل میں جاپان کا تجارتی توازن 301.9 ارب ین کے سرپلس میں چلا گیا، جبکہ ایک سال پہلے اسی مہینے میں خسارہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ مارچ میں بھی جاپان نے تقریباً 643 ارب ین کا سرپلس حاصل کیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی بے یقینی کے باوجود جاپانی معیشت اپنی رفتار برقرار رکھے ہوئے ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مجموعی درآمدات بڑھنے کے باوجود جاپان کی تیل درآمدات مالیت کے اعتبار سے تقریباً 50 فیصد کم ہو گئیں، جبکہ مائع قدرتی گیس یعنی ایل این جی کی درآمدات میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ یہ تبدیلی اس بڑے عالمی بحران کا عکس سمجھی جا رہی ہے جو Iran کی جنگ اور آبنائے ہرمز کی کشیدگی کے بعد توانائی کی منڈیوں پر چھایا ہوا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق جاپان اس وقت ایک نازک توازن پر کھڑا ہے: ایک طرف اے آئی اور ٹیکنالوجی کی عالمی مانگ اسے نئی معاشی طاقت دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ کا بحران اس کی توانائی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔
ٹوکیو کی چمکتی ہوئی ٹیک انڈسٹری اور خلیج میں جلتی ہوئی جنگ — دونوں اس وقت ایک ہی عالمی معیشت کی دو متضاد تصویریں بن چکی ہیں۔

مزید پڑھیں