جنوری ہنگاموں کا ریکارڈ غائب؟ ٹرمپ دورِ انصاف پر نئے سوالات، پولیس پر حملوں کی تفصیلات بھی ہٹا دی گئیں
جنوری ہنگاموں کا ریکارڈ غائب؟ ٹرمپ دورِ انصاف پر نئے سوالات، پولیس پر حملوں کی تفصیلات بھی ہٹا دی گئیں
امریکہ میں ایک نیا سیاسی طوفان اس وقت کھڑا ہو گیا جب انکشاف ہوا کہ محکمۂ انصاف نے چھ جنوری 2021 کو امریکی کانگریس پر ہونے والے حملے سے متعلق متعدد سرکاری ریکارڈز اور خبروں کو اپنی ویب سائٹس سے ہٹا دیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق ان حذف شدہ مواد میں وہ تفصیلات بھی شامل تھیں جن میں پولیس اہلکاروں پر ہونے والے پرتشدد حملوں اور ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کے خلاف مقدمات کا ذکر موجود تھا۔
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ چھ جنوری کے واقعات میں گرفتار کئی افراد کے ساتھ زیادتی ہوئی اور ان کے خلاف کارروائیاں سیاسی بنیادوں پر کی گئیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ریکارڈ حذف کرنے سے تاریخ کو بدلنے یا کم از کم عوامی یادداشت کو دھندلا کرنے کی کوشش کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔
چھ جنوری 2021 کو ٹرمپ کے حامیوں نے واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا تاکہ صدارتی انتخابی نتائج کی توثیق روکی جا سکے۔ اس دوران پولیس اہلکار زخمی ہوئے، عمارت میں توڑ پھوڑ ہوئی اور امریکی جمہوریت کے لیے اسے ایک سیاہ دن قرار دیا گیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر واقعی سرکاری ریکارڈ بڑے پیمانے پر حذف کیے گئے ہیں تو یہ معاملہ صرف ویب سائٹ اپ ڈیٹس تک محدود نہیں رہے گا بلکہ شفافیت، انصاف اور ریاستی اداروں کی غیر جانبداری پر بھی سنگین سوالات کھڑے کرے گا۔
واشنگٹن کی سیاسی فضا میں اب یہ بحث شدت اختیار کر رہی ہے کہ آیا امریکہ اپنی تاریخ کے سب سے متنازع واقعات میں سے ایک کی یادداشت کو دوبارہ لکھنے کی طرف بڑھ رہا ہے یا یہ صرف انتظامی تبدیلیوں کا نتیجہ ہے۔


