Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ہومامریکہتیل، طاقت اور جنگی تیاری: امریکی فوج اور وائٹ ہاؤس کے درمیان...

ٹرینڈنگ

تیل، طاقت اور جنگی تیاری: امریکی فوج اور وائٹ ہاؤس کے درمیان بڑھتا ہوا خاموش تصادم

تیل، طاقت اور جنگی تیاری: امریکی فوج اور وائٹ ہاؤس کے درمیان بڑھتا ہوا خاموش تصادم

واشنگٹن میں ایک نئی مگر خاموش کشمکش نے جنم لیا ہے—ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کی جارحانہ آئل ڈرلنگ پالیسی، جس کا مقصد توانائی میں خود کفالت اور معاشی دباؤ کم کرنا ہے، اور دوسری طرف امریکی فوجی قیادت، جو اسے قومی سلامتی اور جنگی تیاری کے لیے ایک ممکنہ خطرہ سمجھ رہی ہے
باخبر عسکری و پالیسی ذرائع کے مطابق تنازعہ کا مرکز وہ ساحلی اور سمندری علاقے ہیں جہاں امریکہ اپنی جدید ترین فوجی مشقیں، میزائل ٹیسٹنگ اور بحری آپریشنز کرتا ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ان علاقوں میں آئل رِگز اور صنعتی انفراسٹرکچر بڑھا دیا گیا تو “کھلا سمندر” جو امریکی ملٹری کی تربیت کا بنیادی جزو ہے، آہستہ آہستہ محدود ہوتا جائے گا
پینٹاگون کے اندرونی حلقوں میں یہ تشویش بھی زیرِ بحث ہے کہ ڈرلنگ کے باعث نہ صرف آپریشنل اسپیس کم ہوگی بلکہ حادثاتی ٹکراؤ، ماحولیاتی آلودگی اور حساس عسکری سرگرمیوں کی رازداری بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ بعض دفاعی منصوبہ ساز اسے محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ “اسٹریٹجک رِسک” قرار دے رہے ہیں
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے قریبی پالیسی سازوں کا مؤقف ہے کہ بڑھتی ہوئی عالمی توانائی مسابقت کے دور میں امریکہ کے لیے اپنی تیل کی پیداوار بڑھانا ناگزیر ہے، اور یہی قدم اقتصادی استحکام اور بیرونی انحصار کم کرنے کی ضمانت دے سکتا ہے
یہ ٹکراؤ محض ایک پالیسی اختلاف نہیں بلکہ دو مختلف تصوراتِ طاقت کی جنگ بن چکا ہے: ایک وہ جو توانائی کو قومی خودمختاری کی بنیاد سمجھتا ہے، اور دوسرا وہ جو سمندر کی وسعت کو عسکری برتری کی ضمانت قرار دیتا ہے
فی الحال یہ اختلاف کھلے بحران کی شکل اختیار نہیں کر سکا، مگر واشنگٹن کے پالیسی حلقوں میں اسے ایک ایسے خاموش دراڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مستقبل میں امریکہ کی داخلی سکیورٹی اور اسٹریٹجک سمت دونوں کو متاثر کر سکتی ہے

مزید پڑھیں