“تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان خاموش سفارتی طوفان” — ہرمز بحران، تیل کی نئی جنگ اور خطے میں بڑے فیصلوں کی سرگوشیاں۔
“تہران، واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان خاموش سفارتی طوفان” — ہرمز بحران، تیل کی نئی جنگ اور خطے میں بڑے فیصلوں کی سرگوشیاں۔
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا اس وقت ایک ایسے نازک سفارتی مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جہاں بظاہر الگ الگ نظر آنے والے واقعات دراصل ایک ہی بڑے عالمی بحران کے مختلف رخ بن چکے ہیں۔ تہران، واشنگٹن، ریاض اور بیجنگ کے درمیان بیک وقت چلنے والی سفارت کاری، توانائی کے بحران اور ممکنہ عسکری تناؤ نے خطے کو غیر معمولی غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔
اس پس منظر میں پاکستان کے وزیر داخلہ کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں خاص توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ ذرائع اور علاقائی رپورٹس کے مطابق وہ ایک ہفتے میں دو بار Iran کے دورے پر گئے، جہاں تہران میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کی گئیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران ان کی مبینہ طور پر Islamic Revolutionary Guard Corps کے کمانڈرز سے بھی ملاقات ہوئی۔ تاہم حیران کن طور پر یہ دورہ مختصر رہا اور وہ چوبیس گھنٹوں کے اندر دوبارہ واپس چلے گئے۔
یہ تیزی سے ہونے والی آمد و رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، اور سفارتی چینلز ایک بار پھر فعال مگر غیر مستحکم دکھائی دیتے ہیں۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق تہران نے امریکی سفارشات اور ممکنہ شرائط پر غور شروع کر دیا ہے، تاہم کسی حتمی پیش رفت کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
دوسری طرف مختلف علاقائی رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں یہ مؤقف اختیار کر رہی ہیں کہ بڑے سفارتی اجلاس، جن میں ایران اور امریکہ کی ممکنہ ملاقات بھی شامل ہو سکتی ہے، حج کے بعد منعقد کیے جائیں گے۔ یہ اس بات کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے کہ فوری فیصلہ سازی کے بجائے وقتی توقف اختیار کیا جا رہا ہے۔
توانائی کے محاذ پر صورتحال مزید تیزی سے بدل رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی تیل سپلائی کا نظام شدید دباؤ میں ہے۔ اسی دباؤ کے نتیجے میں متبادل پائپ لائن منصوبوں کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، اور بعض خلیجی ذرائع کے مطابق نئے راستوں کے ذریعے تقریباً 50 فیصد برآمدات کو ہرمز کے بغیر منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ پیش رفت اس بات کا اشارہ ہے کہ خطہ اب مستقل طور پر ایک “متبادل توانائی جغرافیہ” کی طرف بڑھ رہا ہے۔
تاہم اسی دوران جنگ کے بادل بھی مزید گہرے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایران میں عسکری تیاریوں میں اضافہ، ریاستی بیانیے میں سختی، اور نوجوانوں حتیٰ کہ کم عمر افراد کی مبینہ شمولیت سے متعلق رپورٹس نے عالمی تشویش بڑھا دی ہے۔ بعض اطلاعات کے مطابق بارہ سال تک کے نوجوانوں کو بھی مختلف سیکیورٹی ذمہ داریوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جسے انسانی حقوق کے حلقے سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
توانائی کی منڈی بھی اسی غیر یقینی صورتحال کی زد میں ہے۔ تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، اور عالمی سطح پر مہنگائی کا دباؤ واضح طور پر بڑھ رہا ہے۔ امریکہ میں بھی ایندھن کی قیمتیں کئی سال کی بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ چکی ہیں، جس نے سیاسی دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگلے 10 سے 15 دن اس بحران کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ سفارتی چینلز کسی محدود معاہدے یا وقتی ڈی اسکیلیشن کی طرف جا سکتے ہیں، جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ صورتحال کسی بڑے فوجی تصادم کی طرف بھی مڑ سکتی ہے اگر کسی ایک فریق نے غلط حساب لگا لیا۔
یورپی میڈیا اس صورتحال کو “کنٹرولڈ مگر خطرناک تناؤ” قرار دے رہا ہے، سعودی حلقے محتاط مگر فعال سفارت کاری کی بات کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی میڈیا اسے “مزاحمتی مرحلے کا فیصلہ کن موڑ” قرار دے رہا ہے۔
اس تمام صورتحال کا مجموعی خلاصہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اب صرف جنگ یا امن کے درمیان نہیں بلکہ ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں توانائی، سیاست اور عسکری حکمت عملی ایک دوسرے میں مکمل طور پر مدغم ہو چکے ہیں۔ اور یہی امتزاج آنے والے دنوں میں دنیا کے معاشی اور جغرافیائی نقشے کو تیزی سے بدل سکتا ہے۔


