تائیوان کی سمندری گزرگاہ میں جنگی جہاز داخل… ایشیا میں خطرناک ٹکراؤ کا نیا الارم بج گیا
تائیوان کی سمندری گزرگاہ میں جنگی جہاز داخل… ایشیا میں خطرناک ٹکراؤ کا نیا الارم بج گیا
ایشیا کے حساس ترین سمندری راستے میں ایک غیرملکی جنگی جہاز کی گزر نے خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے، جس کے بعد بیجنگ نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ “آزادیٔ جہازرانی” کے نام پر کسی کو اس کی خودمختاری اور سلامتی چیلنج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صورتحال اس وقت مزید سنسنی خیز ہو گئی جب ایک مغربی بحری جہاز تائیوان کی متنازع سمندری گزرگاہ سے گزرا، جسے بیجنگ اپنے اثر و اختیار کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان ان دعوؤں کو مسلسل مسترد کرتا آ رہا ہے۔
چین نے بظاہر نرم مگر انتہائی معنی خیز الفاظ میں واضح کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت جہازرانی کے حق کو تسلیم کرتا ہے، مگر ایسے اقدامات برداشت نہیں کرے گا جو اس کی سلامتی یا علاقائی دعووں کو کمزور کریں۔
عالمی مبصرین کے مطابق یہ صرف ایک بحری گزر نہیں بلکہ طاقت کے بڑے عالمی کھیل کا نیا اشارہ ہے۔ بحیرہ جنوبی چین اور تائیوان اسٹریٹ اب صرف تجارتی راستے نہیں رہے بلکہ دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان ممکنہ تصادم کے اگلے محاذ بنتے جا رہے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کار خبردار کر رہے ہیں کہ ایک معمولی بحری حرکت بھی غلط اندازوں، فوجی ردِعمل اور خطرناک عسکری تصادم میں بدل سکتی ہے۔ دنیا پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ اور یوکرین کی جنگی کشیدگی سے ہل چکی ہے، اور اب ایشیا میں بڑھتا یہ تناؤ عالمی معیشت، سمندری تجارت اور سکیورٹی نظام کے لیے نیا خطرہ بنتا جا رہا ہے۔


